انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 523

انوار العلوم جلد 24 523 سال 1954ء کے اہم واقعات دوسری چیز جس کی طرف میں خواتین کو توجہ دلاتا ہوں وہ پر دہ ہے۔پرانے زمانہ میں پردہ کو اتنی بھیانک صورت دے دی گئی تھی کہ وہ ایک اچھا خاصا قید خانہ تھا پر دہ نہیں تھا حالانکہ اسلامی تاریخ میں اس قسم کے پر دے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔نہ تو اسلامی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں گھروں میں بیٹھی رہتی تھیں، نہ اسلامی تاریخ سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ وہ کسی مرد سے کسی صورت بھی کلام نہیں کرتی تھیں، نہ اسلامی تاریخ سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ وہ اپنے منہ کو اس طرح بند کرتی تھیں کہ ان کے لئے سانس لینا مشکل ہو جاتا تھا لیکن پردہ پھر بھی تھا مگر آجکل اس کارد عمل ایسا ہوا ہے اور پر دہ کی شکل کو ایسا بدل دیا گیا ہے کہ پتا ہی نہیں لگتا کہ ہم پر وہ کس چیز کا نام رکھیں۔مسلمان عورتیں پارٹیوں میں بھی شامل ہوتی ہیں، گانے بھی گاتی ہیں، مردوں کے ساتھ مصافحے بھی کرتی ہیں، ان کے ساتھ خوب باتیں بھی کرتی ہیں، ان کے سٹیجوں پر جاکر تقریریں بھی کرتی ہیں، ان کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں اور پھر کہا یہ جاتا ہے کہ یہ اسلامی پر دہ ہے۔یہ اسلامی پر دہ ہے تو غیر اسلامی پردہ کون سا ہوتا ہے ؟ آیا غیر مسلم عورتیں ننگی پھر ا کرتی ہیں ؟ جس حد تک آجکل ہماری وہ عورتیں جو باہر جاتی ہیں لباس پہنتی ہیں، وہی یورپین عورتیں بھی پہنتی ہیں۔جس حد تک یہ سوسائٹی میں شامل ہوتی ہیں اسی حد تک عیسائی عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں پھر پر وہ کون سا ہوا۔آخر ایک لفظ کا تو قرآن سے پتا لگتا ہے اور اس کے کوئی معنی ہوں گے وہ کیا معنے ہیں ؟ جو بھی اس کے وہ معنے کرتے ہیں آیا اس پر وہ عمل کرتی ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ اگر اور نہیں تو چلو اتنا ہی عمل کرنا شروع کر دو پھر آگے چل پڑیں گے مثلاً یورپ میں جو عورتیں ہمارے ذریعہ سے مسلمان ہوتی ہیں یا امریکہ میں ہوتی ہیں یا انڈونیشیا میں ہوتی ہیں (انڈونیشیا والے گو مسلمان ہیں لیکن ان کے ہاں پر وہ ایسا ہی ہے جیسا یورپ اور امریکہ میں ) تو ان سے ہم یہ نہیں کہتے کہ تم فوراً پر دہ شروع کر دو۔ہم جانتے ہیں کہ ان کو نسلاً بعد نسل بے پردگی کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ان کے مکان ایسے بنے ہوئے ہیں کہ اگر وہ ان میں پردہ کریں تو بیمار پڑ جائیں اور پھر ان کی سوسائٹی کی حالت اس قسم کی ہے کہ اگر وہ اس قسم کا پردہ کریں تو انہیں فاقے آنے