انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 502

انوار العلوم جلد 24 502 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء دیکھ ہم آج بھی مستقل مزاج ہیں اور آج بھی اپنے عہد کو دہراتے ہیں۔اور تم اس لئے آئے ہو کہ تمہارا خدا آسمان پر یہ کہے کہ اے میرے کمزور بندو! تم نے اُس وقت ایک عہد مجھ سے باندھا تھا جب تم اس کی حقیقت سے واقف نہیں تھے لیکن جب تم اس کی حقیقت سے واقف ہو گئے اور اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو گئے اور تم نے قسم قسم کی مشکلات اور دقتیں سامنے دیکھیں اور ان کو برداشت کیا تم پھر بھی اپنے عہد پر قائم رہے۔اس لئے میں بھی اپنے عہد پر قائم ہوں اور تم کو وہی کچھ دوں گا جس کا میں نے تم سے اور تم سے پہلے تمہارے بزرگوں سے وعدہ کیا تھا۔پس اپنے ان ایام کو جو کہ نہایت ہی اہم ایام ہیں خشوع اور خضوع اور ذکر الہی کے ساتھ گزار و اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ وہ تمہارے اس مقصد کو پورا کرے جس کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو۔تم کوئی دنیوی جماعت نہیں ہو تم خدا کے سامنے اس لئے حاضر نہیں ہوئے کہ وہ تم کو زمین دے، تم خدا کے سامنے اس لئے حاضر نہیں ہوئے کہ تم کو کار خانے دے، تم خدا کے سامنے اس لئے حاضر نہیں ہوئے کہ تم کو اموال دے، تم خدا تعالیٰ کے سامنے اس لئے حاضر نہیں ہوئے کہ تم کو حکومت دے، تم خدا تعالیٰ کے سامنے اس لئے حاضر نہیں ہوئے کہ تم کو سیاست میں نفوذ دے۔تم خدا تعالیٰ کے سامنے اس لئے حاضر ہوئے ہو کہ اے خدا تیری رضا ہم کو مل جائے۔فقرہ چھوٹا لیکن اہمیت بہت بڑی ہے۔بات تو زبان پر ہلکی ہے مگر میزان میں اس کا وزن بہت زیادہ ہے۔سو خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہاری مدد کرے، خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اپنی موت تک اپنے عہد کو پورا کرنے کی توفیق دے، خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ تمہاری موت تک ہی نہیں تمہاری اولادوں اور اولا دوں کی اولا دوں اور پھر لامتناہی سلسلہ تک تمہارے خاندان کو اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ اگر اس کی حکمت کے خلاف نہ ہو تو وہ اسلام کی ترقی اور اس کا نفوذ اور اس کے ظہور کا زمانہ تم کو بھی اپنی آنکھوں سے دکھا دے۔لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کو منظور نہیں ہے اور اس کی حکمت کا ملہ کے خلاف ہے تو پھر کم سے کم اس کے نمایاں آثار دیکھ لو اور تمہاری اولادیں اسلام کی فتح میں حصہ دار ہوں اور تمہارے حصہ