انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 488

انوار العلوم جلد 24 488 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار حاصل نہیں ہو گی۔لیکن جو نوجوان ان عادتوں سے بچائے جائیں گے وہ ترقی حاصل کر لیں گے۔یورپین لوگوں نے تعلیمی اداروں کے متعلق کئی قسم کے قواعد بنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے طلباء پر بعض خاص پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔لیکن ہمارا ملک ابھی اس بارہ میں بہت پیچھے ہے جس کی وجہ سے طلباء اخلاقی لحاظ سے بلند معیار حاصل نہیں کر سکتے۔اس کے مقابلہ میں جو تعلیم تمہیں یہاں حاصل ہو گی وہ تمہیں ہر سوسائٹی اور ہر مجلس میں ایک امتیازی مقام عطاء کریگی ار تمہارا سکہ دوسروں کے دلوں پر بٹھا دیگی۔لوگ کہتے ہیں کہ احمدی جماعت کے لوگ سفارشوں کی وجہ سے ملازمتوں میں داخل ہو جاتے ہیں ان کی یہ بات بالکل غلط ہے۔احمدیوں کے ملازمتوں میں لئے جانے کی وجہ صرف ان کے اخلاق ہیں سفارشات نہیں۔پس اگر تم اپنے استادوں سے تعاون کرو گے تو آئندہ زندگی میں تمہاری ترقی میں کوئی روک پیدا نہیں ہو گی۔اور اگر ایک افسر متعصب ہونے کی وجہ سے کسی وقت تمہیں رد بھی کر دے گا تو دوسرا افسر تمہارے اخلاق دیکھ کر تمہیں جگہ دیدے گا۔ایک دفعہ ایک پوسٹ کے لئے ایک احمدی دوست نے درخواست دی لیکن جب وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوا تو اس کے بعض ممبران نے کہا چونکہ یہ احمدی ہے اسلئے ہم اسے یہ جگہ نہیں دے سکتے۔کمیشن کا ایک انگریز بھی ممبر تھا اس نے کہا تم اس کو موقع تو دو اور دیکھو کہ یہ اپنی قابلیت کی وجہ سے اس جگہ کا مستحق ہے یا نہیں۔اس کے کہنے پر انہوں نے اس احمدی کو موقع دے دیا اور بعد میں کمیشن کے غیر احمدی ممبروں نے بھی کہا کہ واقع میں یہی شخص اس پوسٹ کا حقدار تھا۔پس اگر تم ایک جگہ تعصب کی وجہ سے رد کر دیئے جاؤ گے تو دوسری جگہ تمہارے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے تمہیں لے لیا جائے گا۔تم دیکھ لو چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو سر میاں فضل حسین صاحب نے ہی آگے کیا تھا اور پھر بڑے زور سے آگے کیا تھا۔گورنمنٹ نے کسی کام کے سلسلہ میں میاں فضل حسین صاحب کو افریقہ بھیجنا تھا انہوں نے کہا میں اس شرط پر افریقہ جانا منظور کرتا ہوں کہ تم میری جگہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو لگاؤ۔پھر جب مستقل ممبری کا سوال آیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے پاس کئی غیر احمدی آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ کیا آپ