انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page v

جلسہ سالانہ 1953ء جو کہ پُر آشوب ماحول میں ہو رہا تھا ایسے میں احمدیوں کے ایمانوں کو گرمانے والے تین خطابات حضرت مصلح موعود نے فرمائے۔یہ تینوں ولولہ انگیز خطابات انوار العلوم جلد 24 میں شامل اشاعت ہیں۔حضرت مصلح موعود کے تینوں خطابات جلسہ سالانہ ہی حقائق و معارف سے پر اور وجد آفرین تھے تاہم اختتامی خطاب ”سیر روحانی“ کے سلسلہ تقاریر کا ساتواں خطاب تھا جس کو سن کر روح وجد میں آجاتی ہے۔اس تقریر میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود سے قائم ہونے والی آسمانی بادشاہت پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور قرآنی علوم کے گویا دریا بہادیئے۔یہ ساری تقریر ہی مسحور کن ہے لیکن اس کے آخری کلمات تو مُردہ روحوں کو حیات نو بخشنے والے ہیں۔آپ نے فرمایا:۔”اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو ! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اٹھیں۔محمد رسول اللہ صلی الم کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مسیح سے چھین کر پھر وہ تخت محمد رسول اللہ صلی اللہ ہم کو دینا ہے اور محمد رسول اللہ صلی ا ہم نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے“۔حضرت مصلح موعود کی یہ ولولہ انگیز ، روح پرور اور وجد آفرین تقریر جلد ھذا کی زینت ہے۔1953ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقات کے لئے حکومت نے یک تحقیقاتی عدالتی کمیشن تشکیل دیا جو چیف جسٹس ہائیکورٹ مسٹر محمد منیر اور جسٹس کیانی پر مشتمل تھا۔اس نے بطور گواہ حضرت مصلح موعود کو بھی بلایا۔حضور نے جنوری 1954ء میں شہادت ریکارڈ کروائی۔یہ بیان بھی اس جلد میں شامل ہے۔اسی طرح کمیشن کی طرف سے تین سوالوں کے جواب بھی آپ نے قلمبند کر وائے وہ بھی اس جلد کی زینت ہیں۔خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1954ء کے موقع پر حضور نے افتتاحی اور اختتامی خطاب فرمایا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کے اعزاز میں خدام الاحمدیہ نے