انوارالعلوم (جلد 24) — Page 444
انوار العلوم جلد 24 444 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار واپس نہ آئے پھر اگلی شام بھی آگئی لیکن میاں قدرت اللہ صاحب واپس نہ آئے چنانچہ پھر گاؤں کے احمدیوں سے آٹا مانگ کر گزارہ کیا گیا۔اس پر میں نے ایک آدمی کو میاں قدرت اللہ صاحب کے پاس بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ یہ معلوم کرے کہ آٹا پسوانے میں اتنی دیر کیوں ہو گئی ہے۔وہاں یہ لطیفہ ہوا کہ اس دوست نے میاں قدرت اللہ صاحب کے دروازہ پر دستک دی لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا آخر اس نے بلند آواز سے کہا۔حضور خفا ہو رہے ہیں، آٹا نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف ہو رہی ہے آخر تم بتاؤ تو سہی کہ آٹا پسوانے میں کیوں دیر واقع ہوئی ہے آخر میاں قدرت اللہ صاحب باہر نکلے اور کہا اسی غور پٹے کرنے آں کہ آٹا کیڑی چکی توں پسوائے " یعنی میں تین دن سے یہ غور کر رہا ہوں کہ آٹا کس چکی پر سے پسوایا جائے گویا آٹا پسوانے کا سوال ہی نہ تھا۔ابھی تو یہ غور ہو رہا تھا کہ آٹا کہاں سے پسوا یا جائے تو یہ ہمارے ملک کی ریڈ ٹیپ ازم ہے۔ہم ہر معاملہ کو اتنا لٹکاتے ہیں کہ دو منٹ کا کام ہو تو اس پر مہینوں لگ جاتے ہیں۔میر اناظروں سے روزانہ یہی جھگڑا ہوتا ہے اور انہیں میں میاں قدرت اللہ صاحب کی ہی مثال دیتا ہوں مثلاً ناظر صاحب بیت المال نے شکایت کی کہ فلاں شخص کے ذمہ 16 ہزار روپیہ کا غبن نکلا ہے اور دو ہزار روپیہ کا جھگڑا اور ہے صدر انجمن احمد یہ کہتی ہے کہ جب تم پوری تحقیقات کر لو گے تو اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کونسی مصلحت ہے اس معاملہ میں اتنی دیر ہو گئی ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کے لئے بعد میں مشکلات کا سامنا ہو گا یا تو ثبوت ضائع ہو جائیں گے یا فریق ثانی کو اس بات کا شکوہ ہو گا کہ وہ کوئی فیصلے نہیں کر رہے۔معاملہ کو یو نہی لڑکا یا جارہا ہے (مشکلات کا سامنا ہو گیا کیونکہ جس شخص نے روپیہ کی ضمانت دی تھی وہ فوت ہو گیا ہے) اس سے پہلے بھی دو تین کیس ہو چکے ہیں اور اب ان کی طرف سے درخواست آئی ہے کہ ہمیں تنخواہیں دی جائیں۔گویا ایک طرف تو جماعت کا نقصان ہوا اور دوسری طرف یہ جرمانہ ہوا کہ جرم کرنے والوں کو تنخواہیں دی جائیں۔میں نے ناظر صاحب اعلیٰ کو یہی لکھا ہے کہ تم ناظر صاحب بیت المال کو یہ جواب کیوں نہیں دیتے کہ کیا آپ کو ہمارا دستور معلوم نہیں کہ ہم ہر معاملہ کو ہمیشہ