انوارالعلوم (جلد 24) — Page 439
انوار العلوم جلد 24 439 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا لیکن دقت یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ جماعت سے خارج ہو چکا ہے اور اس کی دینی حالت بھی ٹھیک نہیں۔اب کوئی بھلا مانس ان سے یہ پوچھے کہ کیا وہ روزویلٹ، ٹرومین، آئزن ہاور یا چیانگ کائی شیک سے بھی بڑا ہے اگر تم ان کے بغیر گزارہ کر رہے ہو تو اس کے بغیر کیوں نہیں کر سکتے۔لیکن جماعتیں ہمیں چٹھیاں لکھتی رہتی ہیں اور بعض اوقات ہم بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کی منظوری دے دیں۔ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ اچھا تم جھک مارنا چاہتے ہو تو مارو تم اپنے لئے موت قبول کرتے ہو تو ہم کیا کریں۔پس عہدیدار کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے اندر پابندی کرانے کا مادہ ہو ، وہ ڈرپوک نہ ہو۔ایک دفعہ میں راولپنڈی گیا 1933ء کی بات ہے اس سال میری بیوی سارہ بیگم فوت ہوئی تھیں راولپنڈی میں میرے سالے ڈاکٹر تقی الدین احمد صاحب بھی تھے جو اس وقت فوج میں غالباً میجر تھے اور راجہ علی محمد صاحب بھی تھے جو اس وقت افسر مال تھے اور جماعت کا امیر ایک کلرک تھا۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس امیر نے ایسا انتظام رکھا تھا کہ اگر وہ کہتا کھڑے ہو جاؤ تو یہ لوگ کھڑے ہو جاتے اگر کہتا کہ بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاتے گو اس کا انتخاب بطور امیر اتفاقاً ہو گیا تھا۔وہ پہلے امیر منتخب ہو چکا تھا اور راجہ علی محمد صاحب اور ڈاکٹر تقی الدین احمد صاحب بعد میں راولپنڈی گئے بہر حال اس نے اپنے انتخاب کی عزت کو قائم رکھا اور اپنے سے بڑے درجہ کے لوگوں کو بھی پابند نظام بنا لیا۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ ہماری جماعت میں احمدیت صرف کر نیلی تک جاتی ہے۔جب کوئی احمدی کر نیل ہو جاتا ہے تو اس کے خاندان کی عورتیں پر دہ چھوڑ دیتی ہیں اور مردوں سے میل جول شروع کر دیتی ہیں۔بعض احمدی کر نیلی کا عہدہ حاصل کرنے کے بعد شراب بھی پی لیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ کرنیلوں میں سے بہت کم تعداد ایسی ہے جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ احمدیت پر قائم ہے۔اب اگر صرف یہ دیکھ کر کہ کوئی شخص فوج میں کرنیل ہے اسے امیر بنادیا جائے تو درست امر نہیں۔اگر ایک چپڑاسی اس سے زیادہ دیندار ہو تو جماعت کی خوبی ہو گی کہ وہ کر نیل کی بجائے اس چیڑ اسی کو اپنا امیر بنائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نظم کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہو اگر وہ چپڑاسی ایسا ہو کہ