انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 438

انوار العلوم جلد 24 438 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار اپنا مشورہ دیتے ہیں عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے تو جب شادی کا فیصلہ کرے تو دیندار عورت تلاش کر اگر تمہارے پیش نظر ایک سے زیادہ عور تیں ہوں اور ان میں سے ایک نیک ہو ، دیندار ہو اس کا ماحول ٹھیک ہو تو اسے دوسری سب عورتوں پر ترجیح دو۔2 اسی طرح مرکز کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا مشورہ دے دے کہ نائب صدر کے لئے کو نسی صفات کا حامل ہونا ضروری ہے مثلاً میرے نزدیک ضروری ہے کہ وہ صاحب تجربہ ہو ، صائب الرائے ، اور صاحب الدین ہو۔صائب الرائے کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود یہ طاقت رکھتا ہو کہ کسی بات کا صحیح اندازہ لگا سکے۔وہ کسی دوسرے شخص کی بات سے متاثر نہ ہو یا کسی کی غلطی سے متاثر نہ ہو۔وہ فیصلہ کرتے ہوئے یہ سمجھ لے کہ اس کا کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔مثلاً ایک شخص اس کا بہنوئی ہے ، وہ نمازی ہے، سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتا ہے اور ہر کام میں سمجھ سے کام لیتا ہے۔اب اگر یہ اس کے خلاف صرف اس وجہ سے ووٹ دے کہ اس کی اپنی بیوی سے جو اس کی بہن ہے لڑائی ہے تو ہم کہیں گے کہ وہ صائب الرائے نہیں۔اس نے فیصلہ کرتے ہوئے اپنے ذاتی تعلقات کو مد نظر رکھا ہے یا اس کی کسی سے دوستی تھی مگر وہ دیندار نہیں تھا، سمجھدار نہیں تھا، سلسلہ کے کاموں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اب اگر یہ اسے محض دوستی کی وجہ سے ووٹ دے دیتا ہے تو ہم کہیں گے یہ صائب الرائے نہیں۔صائب الرائے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے اندر قابلیت رکھتا ہو کہ غیر متعلق باتوں کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہونے دے مثلاً امامت کا سوال ہو تو یہ نہ دیکھے کہ کوئی اس کا بھائی ہے باپ ہے یا کوئی اور قریبی رشتہ دار ہے بلکہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ صرف یہ دیکھے کہ وہ نمازی ہے ، دیندار ہے ، اسے قرآن کریم کا علم دوسروں سے زیادہ ہے۔دیندار ہونا، نمازی ہونا اور قرآن کریم کا علم رکھنا یہ سب باتیں امامت سے تعلق رکھتی ہیں۔عہد یداری یا رشتہ داری کا امامت سے کوئی تعلق نہیں بیرونی جماعتوں میں بھی ایسی غلطیاں ہوتی ہیں ہمارا کام ہے کہ ہم ان کی تربیت کریں۔ایک جگہ سے مجھے لکھا گیا کہ فلاں شخص ہماری جماعت میں صاحب رسوخ ہے اس کے بغیر