انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 405

405 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب انوار العلوم جلد 24 بیکار بنانے کے لئے ریلیوں اور لاریوں پر خصوصیت کے ساتھ حملے کئے جاتے تھے۔تمام بڑے شہروں میں گاؤں کی طرف سے جتھے آتے تھے جیسے لائلپور میں گوجرہ اور سمندری رہ سے اور سرگودہا میں میانوالی اور سکیسر کے علاقوں سے اور لاہور میں راولپنڈی، لائلپور اور دوسرے شہروں سے۔گویا لاہور میں تو لائلپور، راولپنڈی، سرگودہا اور ملتان کے شہروں کو استعمال کیا جا رہا تھا اور لائلپور ، سرگودہا، راولپنڈی، ملتان وغیرہ میں ارد گرد کے دیہات کے لوگوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔کیا یہ بات بغیر کسی تنظیم کے ہو سکتی تھی اور کیا یہ تنظیم بغیر کسی منظم کے ہو سکتی تھی ؟ پس یہ حالات صاف بتاتے ہیں کہ تقریروں میں کچھ اور کہا جاتا تھا گو جوش کی حالت میں وہ بھی اصل حقیقت کی غمازی کر جاتی تھیں لیکن پرائیویٹ طور پر اور رنگ میں تیاری کی جارہی تھی۔پس فسادات کی اصل ذمہ دار جماعت اسلامی، جماعت احرار اور مجلس عمل تھی، ان کے کارکنوں نے متواتر لوگوں میں جوش پیدا کیا کہ احمدی اسلام کو تباہ کر رہے ہیں، پاکستان کے غدار ہیں، غیر حکومتوں کے ایجنٹ ہیں، گویا وہ دوہی چیزیں جو پاکستانی مسلمانوں کو پیاری ہو سکتی ہیں یعنی اسلام اور پاکستان دونوں کی عزت اور دونوں کی ذات احمدیوں سے خطرہ میں ہے۔ظاہر ہے کہ ان تقریروں کے نتیجہ میں عوام الناس میں اتنا اشتعال پیدا ہو جانا ضروری تھا کہ وہ اپنی دونوں پیاری چیزوں کے بچانے کے لئے اُس دشمن کو مٹادیتے جس کے ہاتھوں سے ان دونوں چیزوں کو خطرہ بتایا جاتا تھا۔ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ انڈر گراؤنڈ طور پر کچھ ایسے لوگ بھی مقرر کئے جاتے جو اس طوفان کو ایک خاص انتظام کے ماتحت اور ایک خاص لائن پر چلا دیتے۔جب طبائع میں اشتعال پیدا ہو جائے تو وہ لیڈر کی اطاعت کے لئے پوری طرح آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس طرح تنظیم کے لئے رستہ کھول دیا گیا تھا۔ان لوگوں کو یہ اتفاقی سہولت میسر آگئی کہ پنجاب کے صوبہ کی حکومت دانستہ یا نادانستہ ایسے طریق عمل کو اختیار کرنے لگی جو دنیا کی کسی مہذب حکومت میں بھی استعمال نہیں کیا جاتا اور جس کا ذکر ہم اوپر کر آئے ہیں۔اس دوران میں بد قسمتی سے پاکستان کی مرکزی حکومت میں ایک ایسا وزیر اعظم آگیا جو مذہبی جوش رکھتا