انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 8

انوار العلوم جلد 24 8 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب دیئے۔پس جبکہ خود اپنے فعل کی وجہ سے وہ اقلیت بن گئے ہیں تو ان کو اقلیت قرار دے دینا چاہئے۔اب ہم ان اعتراضات کا نمبر وار جواب دیتے ہیں۔بہ کرام اور ائمہ سلف نے (3۔الف) مولانامودودی صاحب نے جو یہ لکھا ہے کہ ختم نبوت کی احمدیوں نے نئی صحاجب خاتم النسین کے کیا معنی سمجھے! تغیر کی ہے جو صحابہ کرام کی تفسیر اور بعد کے مسلمانوں کی تفسیر کے خلاف ہے یہ ایک بے دلیل دعوی ہی نہیں بلکہ خلافِ حقیقت دعویٰ بھی ہے۔صحابہ کرام میں سے ایک مقتدر ہستی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔آپ فرماتی ہیں: - قُولُوا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ = یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین تو ضرور کہو مگر یہ نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ان الفاظ سے صاف ثابت ہے کہ : (الف) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاتم النبیین کے معنی اور سمجھتی تھیں اور لا نبيع بَعْدَہ کے معنی اور سمجھتی تھیں۔(ب) وه لا نَبِع بَغدَہ کے الفاظ کو ذو المعانی خیال فرماتی تھیں کیونکہ باوجود اس کے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا نَبِيَّ بَعْدِي وہ فرماتی ہیں کہ لَا نَبِيَّ بَعْدَةُ نہ کہا کرو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ تو اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ مسلمانوں کو یہ نصیحت فرماتی ہوں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ نہ کہا کرو۔پس ان کا مطلب یہی ہو سکتا تھا کہ اس فقرہ کے کئی معنے ہیں ایک معنوں سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔اس لئے اس فقرہ کو استعمال نہ کیا کرو۔وہ غلط فہمی یہی ہو سکتی تھی کہ کلیۂ بغیر کسی شرط کے ہر قسم کی نبوت کا انکار بھی اس فقرہ سے نکل سکتا تھا مگر وہ اس خیال کو درست نہیں سمجھتی تھیں اس لئے وہ اس فقرہ کے استعمال سے منع فرماتی تھیں۔یہ ایسی ہی بات تھی جیسے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ جاؤ اور اعلان کر دو کہ جس نے لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہا وہ داخل جنت ہو گیا۔جب