انوارالعلوم (جلد 24) — Page 383
انوار العلوم جلد 24 383 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کر ناشریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔پھر وہ دلیل تمہاری کیسی گاؤ خورد ہو گئی کہ اگر کوئی شریعت لاوے اور مفتری ہو تو تیئیس برس تک زندہ نہیں رہ سکتا۔چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے جیسا کہ ایک الہام الہی کی یہ عبارت ہے کہ وَاصْنَع الفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَااِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے جو اُن کے ہاتھوں پر ہے۔اب دیکھو خدا نے میری وحی اور تعلیم اور میری بیعت کو نوح ر کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات ٹھہرایا۔جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان ہوں وہ سنے۔“ جواب: ہاں۔لیکن انہوں نے ایک بعد کی کتاب میں اس کی تشریح کی ہے (گواہ نے ایک کتاب سے پڑھ کر سنایا) سوال: کیا مرزا غلام احمد صاحب نے ان لوگوں کو مرتد کہا ہے جو احمدی بننے کے بعد اپنے عقیدے سے پھر گئے ؟ جواب: مرتد کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایسا شخص جو واپس لوٹ جائے۔مولانامودودی صاحب نے بھی یہ اصطلاح استعمال کی ہے۔سوال: کیا آپ مرزا غلام احمد صاحب کو ان مامورین میں شمار کرتے ہیں جن کا ماننا مسلمان کہلانے کے لئے ضروری ہے؟ جواب: میں اس سوال کا جواب پہلے دے چکا ہوں۔کوئی شخص جو مر زا غلام احمد صاحب پر