انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 326

انوار العلوم جلد 24 326 سیر روحانی (7) دھم اور پیں پیں پیں کیا ہے؟ تو کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ آرہا ہے حالانکہ وهم وهم دھم اور پیں پیں ہیں سے بادشاہ کا کیا تعلق ہے۔تم بندر کا تماشہ کرو تو اُس کے لئے بھی ہیں ہیں کر سکتے ہو۔کتے کا کھیل کھیلو تو اس کے لئے بھی ہیں ہیں کر سکتے ہو ، بادشاہ اور دھم وھم اور پیں پیں کا کیا جوڑ ہے۔مگر یہاں جو نوبت خانہ بجتا ہے اُس میں با دشاہ کے دیدار کی بشارت دیتے ہوئے اُس کی حیثیت بھی پیش کی جاتی ہے اور ایک عجیب شاندار پیغام دنیا کو پہنچایا جاتا ہے۔مؤمنوں کو الگ اور منکروں کو الگ۔پھر اس نوبت خانہ کی چوٹ مُردہ چمڑہ پر نہیں پڑتی زندہ گوشت کے پر دوں پر پڑتی ہے۔اور پانچ وقت اِس نوبت خانہ میں نوبت بجتی ہے کہ آجاؤ اپنے بادشاہ یعنی خدا کی زیارت کے لئے اور اعلان کرنے والا کھڑ ا ہو تا ہے اور کہتا ہے۔الله اكبرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اے لوگو! اپنے بادشاہ کی زیارت کے لئے آجاؤ۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ دُنیا میں لوگ اپنے بادشاہوں اور حاکموں کی زیارت کے لئے جاتے ہیں مگر اُن میں سے کوئی پچاس گاؤں کا مالک ہوتا ہے، کوئی سو گاؤں کا مالک ہوتا ہے، کوئی ہزار گاؤں کا مالک ہوتا ہے، کوئی ایک صوبہ کا مالک ہوتا ہے، کوئی ایک ملک کا مالک ہو تا ہے ، کوئی پانچ ملک کا مالک ہو تا ہے، کوئی دس ملک کا مالک ہوتا ہے، پھر اُن میں سے کوئی ایسا ہو تا ہے کہ بڑے ملک کا مالک ہوتا ہے لیکن چھوٹے ملک کے بادشاہ اُس پر فاتح ہو جاتے ہیں۔جیسے سکندر یونان کا مالک تھا مگر کسرای کو آکے اُس نے شکست دیدی۔نادر شاہ ایک معمولی قبیلے کا بادشاہ تھا مگر اُس نے ہندوستان کی بادشاہت کو شکست دے دی۔تو اول تو اس کی حکومتیں بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور پھر حکومتوں کے مطابق اس کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔اُن کی زیارت عمر میں کبھی ایک دفعہ نصیب ہوتی ہے مثلاً تاجپوشی ہوتی ہے اور وہ باہر نکلتے ہیں تولوگ اُن کی زیارت کرتے ہیں۔مگر ہم تمہیں جس بادشاہ کی زیارت کے لئے بلاتے ہیں وہ سب سے بڑا ہے اور بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اس کے مقابل میں بالکل بیچ ہو جاتا ہے کسی کی طاقت نہیں کہ اُس کے آگے بول سکے۔