انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 320

انوار العلوم جلد 24 320 سیر روحانی (7) وہ ایک چیز کو دوسری سے مار کر آگ جلاتے ہیں۔جیسا کہ پہلے زمانہ میں لوگ چقماق سے آگ جلایا کرتے تھے۔اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ گھوڑوں کے شموں سے تیز دوڑنے کی وجہ سے جو آگ پیدا ہو۔لیکن اس جگہ پر شموں کے معنے اس لئے نہیں کئے جا سکتے کہ وَالْعدِیتِ ضَبحًا میں اِس کا ذکر آچکا ہے اور بتایا جا چکا ہے کہ گھوڑے دوڑتے ہیں اور انہیں سانس چڑھ جاتا ہے اور جس کو سانس چڑھے گا اُس کے شموں سے آپ ہی آگ نکلے گی۔پس یہاں آگ جلانے کا ذکر ہے اور حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ اس جگہ مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اترتے ہیں اور کھانے وغیرہ پکاتے ہیں اور آگ جلاتے ہیں۔اس میں سواروں کی بہادری اور اطمینان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دشمنوں سے ڈریں گے نہیں، کھلے کیمپ لگائیں گے اور آگ روشن کریں گے۔دشمن سے ڈر کر روشنیاں بجھائیں گے نہیں۔جیسے فتح مکہ کے وقت ابو سفیان کا روشنیوں سے پریشان ہو جانا اسکی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔جب لشکر اپنے دشمن سے ڈرتا ہے تو شبخون سے بچنے کے لئے اپنے پڑاؤ کا نشان نہیں دیتا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمان خوب روشنی کر کے پڑاؤ کریں گے اور دشمن سے ڈریں گے نہیں کیونکہ کہیں گے کہ اُس نے ہمیں مارنا ہی ہے نا تو مر کر جنت میں چلے جائیں گے ہمیں ڈر کس بات کا ہو۔حضرت ضرار کا واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی جرنیل نے بہت سے سپاہی مار دیئے اسلامی کمانڈر انچیف نے ضرار بن ازور کو بلایا اور کہا۔تم جاؤ تم بڑے بہادر آدمی ہو اور اُس سے جاکر لڑو۔بہت سے مسلمان مارے گئے ہیں اور بد دلی پھیل رہی ہے۔وہ لڑنے کے لئے گئے جب اُس کے سامنے کھڑے ہوئے تو یکدم واپس بھاگے۔مسلمانوں میں بد دلی پید اہوئی اور انہوں نے بہت تعجب کیا کہ ایک صحابی ہے اور وہ اس طرح بھا گا ہے۔کمانڈر نے ایک شخص سے کہا تم اس کے پیچھے پیچھے جاؤ اور دیکھو کیا بات ہے؟ جب وہ پہنچا تو ضر اڑ اپنے خیمہ سے نکل رہے تھے۔انہوں نے کہا ضرار ! آج تم نے بڑی بد نامی کرائی ہے۔تمہارے دوست افسوس کر رہے ہیں کہ تم نے اس طرح اسلام کو ذلیل کیا، تم کیوں بھاگے تھے ؟