انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 312

انوار العلوم جلد 24 312 سیر روحانی (7) قربان ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔دیکھو ! تم کہتے ہو کہ شرابیں ہم اس لئے پلاتے ہیں تاہمار اسپاہی پاگل ہو جائے۔تم کہتے ہو ہم اُسے ٹوٹنے کی اس لئے اجازت دیتے ہیں کہ اُس کے اندر جوش جنون پیدا ہو اور رغبت پیدا ہو ہم اس لئے جھوٹی خبریں مشہور کرتے ہیں تا دشمن بد نام ہو۔جنگ عظیم میں جرمنوں کے خلاف مثلا انگلستان میں مشہور کیا گیا کہ جرمن میں جو صابن استعمال ہوتا انگریزوں کا جھوٹا پروپیگنڈا ہے وہب انگریز عمروں کی چربی سے تیار کیا گیا ہے۔بعد میں میں نے انگریزوں کی کتابیں پڑھیں تو اُن میں لکھا تھا کہ جھوٹ ہم نے اِس لئے بولا کہ تا لوگوں میں جوش پیدا ہو۔اسی طرح کہا گیا کہ جرمن والے جو جہاز ڈبوتے ہیں اُن میں ڈوبنے والے سپاہیوں پر بڑی سختیاں کرتے ہیں اور انہیں مارتے ہیں اور اس خبر کو بھی خوب پھیلا یا گیا۔جب جنگ ختم ہو گئی تو انگریزی نیوی نے ایک ڈھال تحفہ کے طور پر جر من آبدوز کشتیوں کے افسر کو بھجوائی اور لکھا کہ ہم اس یاد گار میں یہ تحفہ تم کو بھجواتے ہیں کہ جنگ کے دنوں میں تم نے ہم سے نہایت شریفانہ سلوک کیا۔تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے بعد میں انہوں نے خود مانا کہ ہم نے یہ جھوٹ اس لئے بولا تھا کہ قوم میں جرمنی کے خلاف غم و غصہ پیدا ہو۔مگر اسلام سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔وہ فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى۔کوئی قوم کتنی ہی دشمنی کرے تم نے اُس پر جھوٹ نہیں بولنا، تم نے اُس پر افتراء نہیں کرنا، تم نے اُس پر الزام نہیں لگانا بلکہ سچ بولنا ہے۔ہاں زیادہ سے زیادہ تم اتنا کر سکتے ہو کہ جتنا انہوں نے کیا ہے اتنا تم بھی کر لو ، اس سے زیادہ نہیں لیکن اس صورت میں بھی اگر وہ مثلاً تمہارے ناک کان کاٹتے ہیں ، تمہاری عزت پر حرف لاتے ہیں تو تم مارنے کے تو جنگ میں مجاز ہو لیکن تمہیں یہ اجازت نہیں کہ مردہ کی ناک کان کاٹو کیونکہ مردہ کی زندگی اب ختم ہو چکی ہے۔تم زندہ سے اپنا بدلہ لے سکتے ہو مُردہ سے بدلہ لینے کی تم کو اجازت نہیں۔