انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 298

انوار العلوم جلد 24 298 سیر روحانی (7) سلوک کر رہے ہیں۔کہنے لگا میں بھی گورداسپور کا ہی ہوں۔ہمارے گھر انہوں نے کوٹ لئے ، تباہ کر دیئے وہ تو خیر سرکاری ظلم تھا کہ اس کو لیسٹوں کے مطابق مال دے رہے تھے آخر ساروں کو کب مل رہا ہے۔مگر ان لوگوں نے تو جو مال لسٹوں میں نہیں لکھا وہ بھی انہیں لا کر دیا گیا ہے۔میں نے کہا میں آپ کو ایک نئی بات بتاؤں ان لوگوں کا کچھ زیور میرے پاس پڑا تھا وہ بھی میں نے ان کو دیدیا ہے وہ اُن کی لسٹ میں بھی نہیں تھا۔کہنے لگا یہ تو بڑا ظلم ہے۔اتنے ظلم کے بعد آپ کا ان سے یہ معاملہ میری عقل میں نہیں آتا۔میں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے آخر میں نے اِن کا مال کیوں رکھ لینا تھا؟ کہنے لگا انہوں نے ہمارا مال وہاں رکھا ہے۔میں نے کہا اگر تم ثابت کر دو کہ میری کو ٹھی کا مال اس نے رکھا ہے تو مجھے بڑا افسوس ہو گا کہ میں نے اُس کو اُس کا مال واپس دے دیا ہے۔لیکن اگر اُس نے نہیں رکھا کسی اور نے رکھا ہے تو یہ تو بتاؤ کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی، مارے کوئی اور سزا کسی کو دی جائے۔میں نے کہا تم عدالت میں یہی کیا کرتے ہو۔وہ کہنے لگا ہم اس طرح تو نہیں کیا کرتے لیکن یہ تو بری بات ہے کہ یہ اپنا مال لے جائیں۔میں نے کہا لے جائیں۔یہ تو خدائی مصیبتیں ہیں جو آتی رہتی ہیں۔انسان گر کے بھی مر جاتا ہے اور زلزلے آتے ہیں تو بھی تباہ ہو جاتے ہیں کسی انسان پر الزام نہیں آتا۔بہر حال اِس نے میر امال نہیں لیا۔جس نے لیا ہے اُس کا مال میرے پاس لاؤ پھر میں سوچوں گا کہ رکھ لینا چاہئے یا نہیں چونکہ اس نے ہما را مال نہیں رکھا اسلئے ہم نے بھی اس کا مال نہیں رکھا۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک مجسٹریٹ مجھ سے ملنے کیلئے آیا۔اس نے کہا میرے دل میں سخت جلن تھی اور مجھے مسلمانوں کے افعال دیکھ کر سخت تکلیف محسوس ہوتی تھی۔مگر میں نے لاہور میں آکر آپ کی تقریر سنی آپ نے یہ بات بتائی تھی کہ ان لوگوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے انہوں نے کیا قصور کیا ہے۔اُس دن سے میرے دل کو تسلی ہو گئی۔میں نے کہا۔خیر کوئی معقول اور شرعی آدمی بھی میرے اس خیال کی تصدیق کر رہا ہے۔