انوارالعلوم (جلد 24) — Page 290
انوار العلوم جلد 24 290 سیر روحانی (7) کرے گا۔جو لوگ اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ دین کے معاملہ میں انسان جبر نہ کریں بلکہ دین کا معاملہ صرف خدا اور بندے پر چھوڑ دیا جائے وہ در حقیقت خدا تعالیٰ کے لئے جنگ کرتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہو کر جنگ کرے گا۔پھر فرمایا اِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ الَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ تُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَثَةِ الفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُنْزَلِينَ - بَلَى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَ يَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هُذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ الفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُسَوّمِيْنَ 37 مؤمنوں کو کہدو کہ تم تھوڑے بھی ہو دشمن کے پاس سامان بھی زیادہ ہے لیکن کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ خدا تمہاری مدد کے لئے تین ہزار فرشتے اُتار دے۔بلکہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ سے کام لو اور دشمن تم پر فوری حملہ بھی کر دے تو خدا تم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ پانچ ہزار فرشتے بھیجے گا جو مُسَوّم ہونگے۔یعنی نڈر ہو کر اپنے گھوڑے دشمن کی صفوں میں پھینک دیں گے اور اُسے غارت کر دیں گے۔اس فقرہ میں تو دراصل الہی مدد کا ذکر تھا مگر کچھ لوگ رسمی مؤمن ہوتے ہیں وہ ہر چیز کے لئے جسمانی نسخہ تلاش کرتے ہیں پس ڈر ہو سکتا تھا کہ کچھ بیو قوف ایسے بھی ہوں کہ جو سچ سچ فرشتوں کو لائیں اور سچ سچ اُن کو دوڑائیں اور لڑائیاں کروائیں اِس لئے فرمایا وَمَا جَعَلَهُ اللهُ إِلَّا بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَينَ قُلُوبُكُم بِهِ ۖ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَکیم 38 یعنی ہم نے جو کہا ہے کہ فرشتے اُتارنے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ فرشتے آدمی بن کر آئیں گے اور تلواریں لے کر لڑیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو مضبوط کریں گے اور دشمنوں کے دلوں میں تمہارا رعب پیدا کر دیں گے اور اصل مدد خدا کی طرف سے آتی ہے فرشتے انسانی جسم میں نہیں آیا کرتے۔۔دنیا میں خدائی حکومت قائم کئے جانے کا اعلان بہشتی دوسری حکومتیں جب حملہ کرتی ہیں تو بڑے زور سے اعلان کرتی ہیں کہ ہم آزادی دینے کے لئے آئے ہیں جیسے انگریزوں نے عربوں سے کیا۔پچھلی جنگ میں انہوں نے عربوں سے کہا کہ ہم تمہیں