انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 247

انوار العلوم جلد 24 247 سیر روحانی (7) قرآنی نوبت خانہ کی ایک اور اسی طرح دوسری خبر جو اس نوبت خانہ سے دی گئی وہ یہ ہے کہ رسول کریم خبر جو بڑی شان سے پوری ہوئی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ مکہ گئے ہیں اور وہاں عمرہ کر رہے ہیں۔آپ نے صحابہ کو دیکھا کہ کسی نے سر منڈایا ہوا ہے اور کسی نے بال تراشے ہوئے ہیں اور عمرہ ہو رہا ہے۔آپ نے صحابہ سے کہا کہ چونکہ خواب آئی ہے، چلو ہم عمرہ کر آئیں۔جب آپ حدیبیہ مقام پر پہنچے تو مکہ والوں کو پتہ لگ گیاوہ لشکر لے کر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم کو یہاں آنے کی کیس نے اجازت دی ہے ؟ انہوں نے کہا ہم لڑنے کیلئے تو نہیں آئے صرف اس لئے آئے ہیں کہ عمرہ کر لیں یہ مقام تمہارے نزدیک بھی برکت والا ہے اور ہمارے نزدیک بھی۔ہم اس کی زیارت کے لئے آئے ہیں لڑائی کے لئے نہیں آئے۔انہوں نے کہا طواف کا سوال نہیں۔ہماری تمہاری لڑائی ہے اگر تم مکہ آئے اور طواف کر گئے تو تمام عرب میں ہماری ناک کٹ جائے گی کہ تمہارا دشمن آکر تمہارے گھر میں طواف کر گیا ہے۔ہم ساری دُنیائے عرب کو اجازت دے سکتے ہیں مگر تم کو نہیں دے سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد بھیجے ، روسائے عرب کی طرف توجہ کی، اُن کو سمجھایا مگر وہ سارے متفق ہو گئے کہ ہم عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے آخر یہ فیصلہ ہوا کہ صلح نامہ لکھا جائے۔صلح نامہ حدیبیہ کی بعض شرائط اس معاہدہ میں انہوں نے کہا کہ آب کے تم واپس چلے جاؤ تا سارے عرب کو پتہ لگ جائے کہ تم پوچھے بغیر آئے تھے اس لئے ہم نے تم کو طواف نہیں کرنے دیا۔پھر اگلے سال آجانا تو ہم تمہیں تین دن کے لئے طواف کرنے کی اجازت دے دیں گے۔معاہدہ کرتے وقت جو بڑے بڑے سردار ان لڑائیوں کو نا پسند کرتے تھے وہ کہنے لگے کہ پھر آپس میں کچھ صلح کی شرطیں بھی ہو جائیں تاکہ لڑائیاں ختم ہو جائیں۔آپ نے منظور فرمالیا۔چنانچہ شرطیں یہ طے ہوئیں کہ اگلے سال مسلمان آکر طواف کر جائیں اور یہ معاہدہ ہو جائے کہ آئندہ دس سال کے لئے لڑائی بند کر دی جائے اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ