انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 242

انوار العلوم جلد 24 242 سیر روحانی (7) پتہ لگا تو اس نے ہمیں اطلاع دی۔میری لڑکی میرے بھائی کے بیٹے سے بیاہی جانے والی ہے اور میرا بھائی احمدی ہے تو چونکہ لڑکی احمدیوں میں جانی ہے اور میر ابھائی بھی احمدی ہے اس لئے میں نے خواہش کی کہ میں آپ سے مل لوں۔میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔پھر میں نے کہا آپ کا کونسا بھائی احمدی ہے ؟ انہوں نے نام بتایا۔میں نے کہا وہ تو ہماری جماعت کے وہاں امیر ہیں۔کہنے لگا جی ہاں۔ایک میرا وہ بھائی ہے وہ تو بیچارے بعد میں فوت ہو گئے لیکن دوسرے بھائی موجود ہیں غلام سرور اُن کا نام ہے اور چار سدہ کے رہنے والے ہیں تو کہنے لگے غلام سرور جو میر ابھائی ہے وہ احمدی ہے اور میں اور میر ایہ بھائی دونوں غیر احمدی ہیں۔میں نے کہا آپ کیوں نہیں احمدی ہوئے کیا آپ نے ہمارا لٹریچر نہیں پڑھا؟ کہنے لگے نہیں میں نے نہیں پڑھا۔پھر کہنے لگے دیکھئے ہم نے تو انصاف کر دیا ہے آپ کا اور ان کا جھگڑا ہے۔ہم نے دو بھائی آپ کو دے دیئے ہیں اور دو بھائی ان کو دے دیتے ہیں اس طرح ان کو تقسیم کر دیا ہے گو یا اکھٹی آپ کو دے دی ہے اور اٹھنی اُن کو دے دی ہے۔انہوں نے مذاق کے رنگ میں یہ بات کہی۔میں نے بھی آگے مذاق کے رنگ میں کہا کہ آپ کو ہمارا پتہ نہیں ہم اس معاملہ میں بڑے حریص ہیں اور ہم سارا روپیہ لے کر راضی ہوا کرتے ہیں اٹھنی لے کر راضی نہیں ہوا کرتے۔کہنے لگے لے لیجئے۔میں نے کہا دیکھیں گے۔پھر میں نے کہا آپ نے کبھی لٹریچر نہیں پڑھا؟ کہنے لگے میں نے کبھی نہیں پڑھا اور نہ مجھے فرصت ہے۔آب جو میں ولایت جانے کے لئے چلنے لگا تو میرے بھائی نے جن سے مجھے بہت محبت ہے اور وہ مجھ سے بڑے بھی ہیں جب میں کپڑے وغیرہ بھر رہا تھا تو میری بیوی کو مجبور کر کے کچھ کتابیں لا کے ٹرنک میں ڈال دیں اور کہنے لگے یہ پڑھنا۔میں نے کہا بھائی! پڑھنے کی کس کو فرصت ہے۔کہنے لگے۔جہاز پر اُن کو فرصت کے موقع پر پڑھتے رہنا۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے آپ کا لحاظ ہے اس لئے رکھ دیں ورنہ میں نے کہاں پڑھنی ہیں۔تو بس اتنی بات ہے ورنہ میں نے پڑھا پڑھایا کچھ نہیں۔میں نے کہا اچھا اٹھتی پر تو ہم راضی نہیں ہوا کرتے ہم تو پورا روپیہ ہی لیا کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔تین چار مہینے ہوئے مجھے لندن سے