انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 198

انوار العلوم جلد 24 198 اور بعض دفعہ ایسے آنکھوں کے اندھے ہوتے ہیں کہ زر د کو سرخ دیکھتے ہیں اور سرخ کو سبتی دیکھ لیتے ہیں۔ایسے ہی اُس شخص کی مرض ہے کہ اپنی مفید چیز کو تو پسند نہیں کرتا اور غیر مفید کو پسند کرتا ہے۔تو یہ اپنے اندر احساس پیدا کرو کہ جو تمہاری مخالفت کرتا ہے بلاوجہ اور دشمنی کرتا ہے تم نے وہ اخبار نہیں خریدنا۔جب دو اخبار ہیں اور دونوں غیر ہیں تو کیا وجہ ہے کہ تم اس غیر کے پاس نہیں جاتے جو شریف ہے تا کہ اُسکی حوصلہ افزائی ہو اور اس غیر کو نہیں چھوڑتے جو کہ شرارتی ہے اور تمہیں بدنام کرتا ہے۔تو جب سلسلہ کے باہر اخبار لینا پڑے تو ہمیشہ ہی ایسے رسائل اور اخبار لو جو تمہاری مخالفت نہیں کرتے یا تمہاری تائید کرتے ہیں۔دونوں قسم کے ہو سکتے ہیں۔مثلاً ”نوائے وقت“ ہے اس نے خاص طور پر کبھی مخالفت نہیں کی۔پہلے بھی میں اس کی تائید کر چکا ہوں کہ جب وہ اصولی بات لکھتا ہے احمدیت کی کچھ تائید ہی کر جاتا ہے۔مثلاً ظفر اللہ خان کے خلاف اُس نے لکھا مگر بنیاد یہی رکھی کہ جب ساری قوم کہتی ہے ہٹ جائیں تو ظفر اللہ خان کیوں نہیں ہٹ جاتے۔یہ نہیں کہا کہ ظفر اللہ خان چونکہ احمدی ہے ہٹ جاتے۔یہ کہا کہ قوم میں خواہ مخواہ شور پڑا ہوا ہے ظفر اللہ خان کیوں نہیں چھوڑ دیتے وزارت۔تو یہ بالکل اور مسلک ہے اس میں ا ہماری مخالفت نہیں ہے اس میں ایک کا من سنس کی بات ہے جو ہماری سمجھ میں نہ آوے اُس کی سمجھ میں آگئی۔(غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ) تحریک جدید اپنے اہم ترین ”اب میں اس ضروری امر کو لیتا ہوں کہ دور میں سے گزر رہی ہے تحریک جدید ایک اہم ترین دور میں سے گزر رہی ہے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اسے اچھی طرح ذہن نشین کرلے اور اپنے آپ کو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے تیار کرے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دور اول کے بدلنے کے ساتھ جو ایک قسم کا تغیر ہوا ہے اس کی وجہ سے جیسے گاڑی کا کانٹ بدلتا ہے تو انسان کو دھکا لگتا ہے اسی طرح اس تغیر کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس دفعہ چالیس فیصدی وعدے کم آئے ہیں۔چالیس فیصدی جب زیادہ