انوارالعلوم (جلد 24) — Page 178
انوار العلوم جلد 24 178 کو پوری طرح آواز پہنچتی نہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی نیک تحریکیں رہ جاتی ہیں۔بعض دفعہ تو میں نے یہ بھی چڑ کے کہا ہے کہ تم اخبار کسی کو دکھایا نہ کرو تا کہ وہ خریدے۔مگر کئی دفعہ میں نے یہ بھی نصیحت کی ہے مایوس ہو کر کہ اچھا تم پکڑ پکڑ کے لوگوں کو اپنا اخبار پڑھایا کرو کیونکہ دونوں دور انسان پر آتے ہیں کبھی چڑتا ہے انسان کہ کہتا ہے خرید لو۔نہیں خریدتے تو نہ دو اُن کو اخبار۔پھر کبھی یہ خیال آتا ہے کہ نہ دو تو بالکل محروم رہ جاتے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں پکڑ کے پڑھاؤ۔تو در حقیقت مختلف دور ہیں انسانی قلب کی کیفیت کے۔بہر حال ان اخباروں کا پھیلنا اور ان کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ا ریویو آف ریلیجنز کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی جب جماعت صرف چند ہزار تھی کہ دس ہزار شائع ہو مگر افسوس ہے ہم اتنی بڑی جماعت ہو گئے ہیں اور اب بھی ہم دس ہزار نہیں شائع کر سکے۔اگر دس ہزار وہ شائع ہو ( ریویو آف ریلیجنز ) تو اس کے اوپر ایک لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔در حقیقت اتنی بڑی ہماری جماعت کے لئے ایک لاکھ کونسی مشکل ہے۔میرے نزدیک تو سو آدمی جماعت میں یقیناً ایسا موجود ہے جو ہزار ہزار روپیہ سالانہ دے سکتا ہے حضرت صاحب کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے۔لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔دس ہزار رسالہ تمام دنیا کی لائبریریوں میں جانا شروع ہو تو ایک سال میں کتنا شور پڑ جاتا ہے۔ابھی حضرت صاحب کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی امریکہ میں شائع کی گئی ہے اور اس کا اثر اتنا گہرا پڑرہا ہے کہ کل ہی میرے پاس رپورٹ آئی ہے کہ کوئی اٹھارہ میں یونیورسٹیوں کی طرف سے اُس کے آرڈر آئے ہیں کہ ہماری لائبریریوں کے لئے بھیج دو۔دس بارہ پبلشرز کی طرف سے اسکی کچھ کا پیاں منگوائی گئی ہیں کہ ہم آپ کے ایجنٹ بننا چاہتے ہیں اس کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔بعض بڑے بڑے پایہ کے آدمی مثلا یونیورسٹیوں کے چانسلروں نے لکھا ہے کہ اس قسم کی دیدہ زیب اور اعلیٰ مضمون والی کتاب ہمارے لئے حیرت انگیز ہے۔ایک نے لکھا ہے کہ میں اپنی شیلف پر اس کو نمایاں جگہ پر رکھنے میں فخر