انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 150

150 انوار العلوم جلد 24 خبریں ہیں، حدیثوں میں یہ خبریں موجود ہیں۔قرآن کریم میں یہ خبریں موجود ہیں، اِن سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مڈل ایسٹ پر کمیونزم نے حملہ کرنا ہے اور مڈل ایسٹ بچانے کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ کہیں قریب میں ہماری فوجیں ہوں اس کے لئے انہوں نے اردن سے فیصلہ کیا اور مصر کے ساتھ انہوں نے سمجھوتہ کر لیا کہ اچھا ہم قاہرہ سے فوجیں نکال لیتے ہیں سویز پر رکھتے ہیں تا کہ ہم سویز کو بچا سکیں۔سویز کے بچانے کا بہانہ در حقیقت معمولی ہے اصل چیز یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری فوجیں اتنی قریب ہوں کہ اگر روس کی فوجیں داخل ہوں تو جھٹ پٹ اُنہیں آگے سے روک سکیں اور یہی دلچپسی امریکہ کو بھی ہے اس کے ساتھ۔لیکن ادھر اس کا بھی کوئی انکار نہیں ہو سکتا کہ کسی ملک میں اُس کی مرضی کے بغیر کوئی فوج رکھی ہوئی ہو تو اس کو ہم آزاد کہہ ہی نہیں سکتے۔لازماً مصر والوں کا بھی دل چاہتا ہے اور ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ مصر آزاد ہو۔کیا وجہ ہے کہ ایک مسلمان حکومت آزاد نہ ہو۔لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ اگر انگریزی فوج سویز ں بیٹھی ہوئی ہے تو ہم مصر کو آزاد نہیں کہہ سکتے کیونکہ چاہے وہ روس کے لئے بیٹھی ہوئی ہو پر مصر کو بھی ہر وقت دھمکی کا خیال رہے گا کہ ہمارے ہاں ذراسی بات ہو گی تو فوج کی دھمکی دیں گے اور اپنی فوجیں اندر داخل کر لیں گے۔چنانچہ پیچھے بعض جھگڑوں پر ایسا ہی ہوا ہے کہ انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اور انہوں نے کئی مصری گاؤں تباہ کر دیئے تو ملک کی آزادی قائم نہیں رہ سکتی جب تک غیر فوج جو ہے وہ وہاں سے نکل نہ جائے۔تو یہ ایک ایسی الجھن ہے جو ہمارے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے یعنی یوں تو ہم نہیں کچھ کر سکتے لیکن انسان کوئی نہ کوئی ارادہ تو پیدا کرتا ہے اپنے دل میں۔وہ ارادہ بھی ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر بھی مشکل اُدھر بھی مشکل۔فلسطین اسی طرح فلسطین کا جھگڑا ہے۔فلسطین کا جھگڑا سویز کے جھگڑے سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ایک تو یہ کہ وہ ملک ایسی جگہ پر ہے جہاں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن مبارک قریب ہے۔مدینہ منورہ فلسطین کی زد میں ہے۔اگر کسی وقت فلسطین کی کمبخت حکومت کی بدنیتی ہو جائے تو اُس کی مسئلہ