انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 130

انوار العلوم جلد 24 130 متفرق امور میں مسجد کے لئے اُن میں تحریک کروں۔اس وقت جیسا کہ میں نے بتایا ہے باون ہزار روپیہ کے قریب چندہ آیا ہے اور اندازہ یہ ہے کہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ زمین اور مسجد اور مکان پر خرچ ہو گا۔اس وقت تک تیس ہزار روپیہ پر زمین خریدی گئی ہے باقی کوئی پچاسی ہزار مکان اور کچھ فرنشنگ پر خرچ ہو گا۔جو ہمارے پاس اندازہ آیا ہے وہ ستر ہزار ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ گورنمنٹ اس کی اجازت نہیں دے رہی۔وہ کہتے ہیں یہ مکان اُس شان کا نہیں ہے جس شان کا علاقہ ہے اس سے ہم بڑا بنوانا چاہتے ہیں۔بہر حال وہ بحث شروع ہے۔اِسی طرح جب مکان بن جائے گا تو اس کے لئے کچھ سامان وغیرہ بھی چاہئے۔اگر گورنمنٹ کی زیادتی کے بعد ستر کی بجائے اسی سمجھ لیا جائے اور پانچ ہزار روپیہ فرنیچر کے لئے سمجھ لیا جائے تو پچاسی ہزار ہو گیا۔تیس ہزار مل کر ایک لاکھ پندرہ ہزار ہو جائے گا۔اس میں سے باون ہزار آچکا ہے اور تریسٹھ ہزار باقی ہے۔اس تریسٹھ ہزار کے لئے اب میں عورتوں میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ ہمت کر کے جلد سے جلد اس تریسٹھ ہزار کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔اُن سے امید تو یہی ہے کہ سال ڈیڑھ سال میں وہ انشاء اللہ اس کو پورا کر لیں گی۔آخر انہوں نے لجنہ کا چندہ بھی ڈیڑھ سال کے قریب کیا اور ساتھ اس کے مسجد کو بھی دیا۔اور جب عورت کوئی ارادہ کر لیتی ہے تو بسا اوقات میں نے دیکھا ہے کہ عورت کا عزم جو ہے وہ مرد سے بڑھ جایا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے ہی کاموں کے لئے بنایا ہے کہ وہ قربانی کرتی ہے اور قربانی کر کے مردوں کے لئے نمونہ دکھاتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یعنی اُن کو جدا کر کے مکہ میں چھوڑ دیا تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابراہیم کو حکم ملا تھا اور انہوں نے اپنی مرضی سے یہ کیا لیکن ہاجرہ کو جو اس وقت قربانی کرنی پڑی میں سمجھتا ہوں وہ ابراہیم سے بعض لحاظ سے زیادہ تھی۔کیونکہ حضرت ابراہیم اس بچے کی تکلیف نہ دیکھنے کے خیال سے وہاں سے چلے گئے۔لیکن ہاجرہ نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اکلوتے بیٹے کو تڑپتے دیکھا اور پھر بھی خدا تعالیٰ کی مشیت پر صبر کیا اور ہاجرہ ہی کی دعا تھی جس پر