انوارالعلوم (جلد 24) — Page 116
انوار العلوم جلد 24 116 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء نور نازل کر رہے ہیں اور کئی دفعہ میں نے تیز روشنیاں آسمان سے اترتی ہوئی دیکھیں لیکن عام نظروں میں وہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے جمع ہوتی ہے تو آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور دنیا میں ان کی تلاش کرتے پھرتے ہیں اور جب وہ اس گروہ کے پاس پہنچتے ہیں جو ذکر الہی کے لئے جمع ہوتا ہے تو وہ ایک دوسرے کو آواز میں دیتے ہیں کہ آجاؤ تمہاری جگہ یہ ہے۔اور پھر وہ سارے کے سارے اُن کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں اور اُن سب کو آسمان کی طرف اٹھا نا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں۔1 اس میں یہی اشارہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں خدا بھی ان کے ذکر کو بلند کرتا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک محدود طاقت کا انسان تو خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرے اور وہ جس کی طاقتیں غیر محدود ہیں وہ ان کو بدلہ نہ دے۔لازمی بات ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کا ذکر بلند کرتے ہیں خدا بھی ان کے ذکر کو بلند کرتا ہے مگر بسا اوقات جیسا کہ ابھی ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے تلاوت کرتے ہوئے جو آیتیں پڑھی ہیں ان میں سے ایک کا مضمون یہی ہے۔الہی نصرت اور تائید بعض دفعہ اتنی مخفی آ رہی ہوتی ہے کہ خدائی جماعتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ کثرت تو ہمیں جھوٹا سمجھے گی کیونکہ اتنا عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک خدا تعالیٰ کی مدد نہیں آئی۔جب یہ مایوسی کا مقام آجاتا ہے تب یکدم اللہ کی طرف سے مدد آ جاتی ہے اور ان کی مایوسی یقین اور امید سے بدل جاتی ہے۔غرض اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو وہ عظیم الشان موقع عطا فرمایا ہے جو شاید آج دنیا میں اور کسی کو حاصل نہیں۔ممکن ہے منفرد طور پر اور بھی کسی کو یہ بات حاصل ہو کیونکہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ کلی طور پر کوئی مذہب یا کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت رکھنے والے ان میں بھی پائے جاتے ہیں مگر ان میں اتنی کثرت نہیں ہوتی جتنی کثرت الہی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ان میں دس ہزار میں سے ایک شخص ایسا ہو جس کے دل میں