انوارالعلوم (جلد 24) — Page 83
انوار العلوم جلد 24 83 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی سلوک ہو رہا ہے وہ درست نہیں۔۔۔۔۔اگر آپ لوگ اسلام کی عزت اور مسلمانوں کے بقاء کے لئے اس بات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں تو مجھے اس کام کے اہل لوگ مہیا کر دینے میں کوئی عذر نہیں۔ان لوگوں میں سے کچھ امریکہ میں کام کریں اور کچھ فرانس میں اور اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے جب تک ترکوں سے معاہدہ طے ہو 138 ، پھر جب ترکوں سے انگریزوں کا معاہدہ ہو گیا تو شرائط صلح پر پھر امام جماعت احمدیہ نے تبصرہ کیا اور تحریر فرمایا کہ:- ترکوں کے متعلق شرائط صلح کا فیصلہ کرتے وقت ان اصول کی پابندی نہیں کی گئی جن کی پابندی یورپ کے مدبر انصاف کے لئے ضروری قرار دے چکے ہیں۔عراق کی آبادی کو ایسے طور پر اپنی رائے کے اظہار کا موقع نہیں دیا گیا جیسا کہ جرمن کے بعض حصوں کو۔ان سے با قاعدہ طور پر دریافت نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے لئے کس حکومت یا کس طریق حکومت کو پسند کرتے ہیں۔شام کی آبادی کو باوجود اس کے صاف صاف کہہ دینے کے کہ وہ آزاد رہنا چاہتی ہے ، فرانس کے زیر اقتدار کر دیا گیا ہے۔فلسطین کو جس کی آبادی کا 2/3 حصہ مسلمان ہے ایک یہودی نو آبادی قرار دے دیا گیا ہے حالانکہ یہود کی آبادی اس علاقہ میں 1/4 کے قریب ہے اور یہ آبادی بھی جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں لکھا ہے 1878 ء سے ہوئی ہے۔۔۔۔۔یہی حال لبنان کا ہے اس کو فرانس کے زیر اقتدار کر دینا بالکل کوئی سبب نہیں رکھتا اور آرمینیا کا آزاد کرنا بھی بے سبب ہے۔۔۔۔۔اسی طرح سمرنا کو یونان کے حوالہ کرنا بھی خلاف انصاف ہے کیونکہ کسی ملک کے صرف ایک شہر میں کسی قوم کی کثرتِ آبادی