انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 59

انوار العلوم جلد 24 59 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب فتویٰ دیا ہوا ہے تو ان فتووں کے بعد فتویٰ دینے والے لوگوں کا یا ان کے شاگردوں کامل بیٹھنا ان کی مداہنت اور بے ایمانی کی دلیل تو ہو سکتا ہے اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ ان کے نزدیک دوسرے فریق مسلمان ہیں اور یا پھر اسلام کی کوئی ایسی تعریف کرنی پڑے گی جو باوجود گفر کے فتوؤں کے بھی ایک کافر کو دائرہ اسلام سے باہر نہیں نکالتی اور۔آپ وہ تعریف کریں گے تو جس طرح سنی اور شیعہ اور خارجی اور اہلحدیث اور دیوبندی اور بریلوی اسلام میں شامل ہو جائے گا احمدی بھی اسلام میں شامل ہو جائے گا۔جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی (10) آگے چل کر مولانا لکھتے ہیں کہ کہا سے مولانا مودودی کو خوف جاتا ہے کہ احمدیوں کے علاوہ اور گروہ بھی مسلمانوں میں ایسے ہیں جو کا نفرنس والے مسلمانوں سے گہر ا اختلاف رکھتے ہیں۔ان سے کیوں یہی معاملہ نہیں کیا جاتا؟ آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ بے شک ” مسلمانوں میں قادیانیوں کے علاوہ بعض اور گر وہ بھی ایسے موجود ہیں جو اسلام کی بنیادی حقیقوں میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور مذہبی و معاشرتی تعلقات منقطع کر کے اپنی جُداگانہ تنظیم کر چکے ہیں لیکن چند وجوہ ایسے ہیں جن کی بناء پر ان کا معاملہ قادیانیوں سے بالکل مختلف ہے۔وہ مسلمانوں سے کٹ کر بس الگ تھلگ ہو بیٹھے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے چند چھوٹی چھوٹی چٹانیں ہوں جو سرحد پر پڑی ہوئی ہوں اس لئے ان کے وجود پر صبر کیا جاسکتا ہے لیکن قادیانی مسلمانوں کے اندر مسلمان بن کر گھتے ہیں، اسلام کے نام سے اپنے مسلک کی اشاعت کرتے ہیں، مناظرہ بازی اور جارحانہ تبلیغ کرتے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے ان کے معاملہ میں ہمارے لئے وہ صبر ممکن نہیں ہے جو دوسرے گروہوں کے معاملہ میں کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔اس پر مزید یہ کہ قادیانیوں کی جتھہ بندی، سرکاری دفتروں میں، تجارت میں، صنعت میں، زراعت میں غرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کے خلاف نبردآزما ہے کہتے ہیں ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے“۔مولانا مانتے ہیں کہ جہاں تک خدا اور 126"