انوارالعلوم (جلد 24) — Page 55
انوار العلوم جلد 24 55 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی چھینی گئیں، مردے ان کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے وغیرہ وغیرہ۔تو کذاب قادیانی نے یہ اشتہار مصالحت کا دیا۔120 اسی طرح لکھا:۔وو معاملہ و بر تاؤ تم سے روکا گیا، عور تیں چھینی گئیں، مردے خراب و بے جنازہ پھینکے گئے، مال و آبرو کا نقصان، روپوؤں کی آمدنی میں خلل آگیا۔۔۔۔۔نہ مسجدوں میں جاسکو نہ مجلسوں میں۔۔۔۔۔تو اب آگے تم کیا کر سکتے ہو“۔121 اب مولانا مودودی صاحب فرمائیں کہ ان فتوؤں اور ان پر متواتر تعامل کے بعد اگر احمدیوں نے بھی بالمقابل اپنی لڑکیوں کی جان اور عزت محفوظ کرنے کے لئے کوئی طریق اختیار کیا تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ احمدیوں کا جو بھی فیصلہ اس بارہ میں ہے 1898ء اور اس کے بعد کا ہے اور مولانا مودودی صاحب کے علماء دین و مفتیانِ شرع متین کا فتویٰ 1892ء کا ہے۔مولانا فرمائیں کہ الْبَادِى أَظْلَمُ (جو ابتدا کرے وہ زیادہ ظالم ہوتا ہے) کا کلمہ حکمت اپنے اندر کوئی معنے رکھتا ہے یا نہیں یا مولانا کے نزدیک کچھ جماعتیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جو بد سلو کی بھی کریں جائز ہے اور کچھ جماعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جواب میں بھی زبان کھولنے کا حق نہیں رکھتیں۔اگر ان کے نزدیک اسلام کی یہ تعریف ہے تو دُنیا کے سامنے اس تعریف کا اعلان تو کر دیکھیں پھر دیکھیں کہ مسلمانوں میں سے ہی تعلیم یافتہ طبقہ ان کی اس رائے کے متعلق کیا خیال ظاہر کرتا ہے۔کیا غیر احمدی علماء کے فتوے (7) اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں کہ احمدیوں کا یہ فتویٰ صرف زبان صرف زبان تک محدود رہے تھے ؟ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ عملاً بھی اُنہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔مولانا کی خدمت میں ہم عرض کرتے ہیں کہ احمدیوں کا ہی یہ فتوی زبان تک نہیں رہا بلکہ اس سے دس سال پہلے کے دیئے ہوئے فتوے