انوارالعلوم (جلد 24) — Page 52
انوار العلوم جلد 24 52 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب جائز ہے۔اہل کتاب کی لڑکیاں لینے کی اجازت دینا اور لڑکیاں دینے سے روکنا صاف بتاتا ہے کہ یہاں مذہبی یا روحانی پلیدی اور گندگی باعث نہیں بلکہ صرف یہ باعث ہے کہ لڑکیاں چونکہ کمزور ہوتی ہیں ان پر ظلم نہ ہو اور یہ مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ احمدی لڑکیاں جب دوسرے گھروں میں گئی ہیں تو بعض جگہ وہ اتنے جاہل نکلے ہیں کہ اُنہوں نے لڑکیوں کو نماز اور قرآن پڑھنے سے بھی روکا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ ہم پر جادو کرتی اور ٹونے کرتی ہیں۔ایسی صورت میں لڑکی کو ان کے ساتھ بیاہ دینا اسے تباہ کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر لڑکیاں دینے کا اختلاف مذہب کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتا۔کیا خوجہ برادری کے لوگ غیروں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں؟ کیا بوہرہ برادری کے لوگ غیروں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں ؟ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں کراچی کی ایک نہایت واجب التکریم خاتون نے ایک مجلس میں کہا کہ ہماری قوم میں تو اتنی سختی ہے کہ اگر ہماری قوم کا کوئی فرد اپنی لڑکی دوسری قوم کے فرد کو دے دے تولوگ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور یہ کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں۔قومی جتھہ بندیوں میں یہ باتیں عام ہو رہی ہیں۔اگر عورتوں کی جان بچانے کے لئے اور ان کی آزادی کو خطرے سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسے حکم دیئے جائیں تو یہ اختلاف اور افتراق کا موجب کس طرح ہو گئے ؟ اس وقت نانوے فیصدی جاٹ اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، ننانوے فیصدی ارائیں اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، ننانوے فیصدی راجپوت بلکہ شاید سو فیصدی راجپوت ہی اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، اسی طرح سو فیصدی خوجہ اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، سو فیصدی بوہرہ اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا اور ننانوے فیصدی میمن اپنی لڑکی قوم کو نہیں دیتا۔تو کیا یہ سب اختلاف اور افتراق پیدا کرتے ہیں اور کیا وہ اسی فتویٰ کے مستحق ہیں جو احمد یوں پر لگائے جاتے ہیں؟ مولانا نے آگے چل کر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ زبانی فتوے تو الگ رہے احمدیوں نے اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔گویا ان کے نزدیک عمل کا مقام فتوے سے