انوارالعلوم (جلد 24) — Page 51
انوار العلوم جلد 24 51 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی لئے جوق در جوق وہاں جمع ہو گئے۔میں بھی موقع پر جا پہنچا لیکن میری آنکھیں اس آخری منظر کی تاب نہ لا سکیں اور میں ایک پھریری لے کر ایک شخص کی آڑ میں کھڑا ہو گیا۔قاسم علی کی لاش کھلے میدان میں ریت پر پڑی تھی۔اسے گیدڑوں نے باہر نکال لیا تھا اور وہ جسم کا گوشت مکمل طور پر نہیں کھا سکے تھے۔۔۔۔۔منہ اور گھٹنوں پر گوشت ہنوز موجود تھا۔باقی جسم سفید ہڈیوں کا ڈھانچ تھا۔آنکھوں کی بجائے دھنسے ہوئے غار اور منہ پر ڈاڑھی کے اکثر بال ایک دردناک منظر پیش کر رہے تھے۔آخر کار پولیس نے لاش کو مزدوروں سے اُٹھوا کر دریائے کوسی کے سپرد کر دیا اور اس طرح ایک امیر جماعت مرزائیہ کا انجام ہوا“۔115 احمدی ان افعال کو نا جائز سمجھتے ہیں اور کبھی بھی اس بات پر مصر نہیں ہیں کہ کسی ایک مقبرہ میں غیر احمدیوں کے ساتھ دفن نہ ہوں یہ ”اتحاد اور اتفاق کی روح “صرف دورِ حاضر کے غیر احمدی علماء دین اور مفتیانِ شرع متین “ میں ہی پائی جاتی ہے۔ہمارے نزدیک عامۃ المسلمین بھی اس روح سے خدا تعالیٰ کے فضل سے بچے ہوئے ہیں اور جہاں کہیں بھی اس قسم کے مظاہرے ہوئے ہیں مسلمانوں کی اکثریت نے اپنی شرافت کا ثبوت دیا ہے اور اس قسم کے کاموں پر لعنت اور نفرین کا اظہار کیا ہے۔غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کی ممانعت (6-ج) یہ کہ احمدیوں نے غیر احمدیوں کو لڑکی دینا نا جائز قرار دے دیا ہے۔یہ بات ٹھیک ہے لیکن یہ بات ضروری بھی ہے کیونکہ لڑکی اپنے خاوند کے تابع ہوتی ہے اور اکثر لوگ اپنا مذہب عورت پر زبر دستی ٹھونسنا چاہتے ہیں۔قرآن کریم نے بھی اگر بعض جگہ لڑکی دینے سے روکا ہے تو اسی حکمت سے روکا ہے۔ورنہ یہ وجہ نہیں ہے کہ بعض عقائد میں اختلاف کی وجہ سے انسان پلید ہو جاتا ہے۔اگر پلید اور گندگی اس کی وجہ ہوتی تو اسلام یہ کیوں اجازت دیتا کہ اہل کتاب کی لڑکیاں لے لینا