انوارالعلوم (جلد 24) — Page 49
انوار العلوم جلد 24 49 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب (10) صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سندھ کی بہو 20 جولائی 1944ء کو جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں وفات پاگئی۔مخالفین نے اس کی تدفین میں مزاحمت شروع کر دی۔43 گھنٹوں کی مزاحمت کے بعد پولیس نے اپنی حفاظت میں نعش کو قبرستان میں دفن کر وایا مگر چند دنوں کے بعد 4،3 اگست کی درمیانی رات مسلمانوں نے قبر کو اکھاڑ ڈالا۔نعش جس صندوق میں بند تھی اس کے اوپر کے تختوں کو توڑ ڈالا اور تابوت میں خشک ٹہنیاں اور کھجور کی ایک بوسیدہ چٹائی ڈال کر آگ لگادی جس کے نتیجہ میں کفن اور میت کے بعض اعضاء جل گئے۔صبح کو جب مرحومہ کے شوہر کو اس بات کا علم ہوا تو پھر پولیس کو اطلاع دی گئی اور 5 اگست کو میت دوبارہ دفن کی گئی۔114 (11) 1946ء میں جماعت احمدیہ کے ایک معزز فرد مکرم قاسم علی خان صاحب قادیانی اپنے وطن رام پور میں وفات پاگئے۔ان کے اعزہ نے انہیں قبرستان میں دفن کر دیا مگر غیر احمدیوں نے ان کی نعش قبر سے نکال کر باہر پھینک دی اور کفن اُتار کر جسم کو عریاں کر دیا۔پھر پولیس نے انہیں دوسری جگہ دفن کرنے کا انتظام کیا تو وہاں بھی یہی سلوک کیا گیا۔اس واقعہ کے متعلق اخبار ”زمیندار“ میں جو حلفیہ رپورٹ شائع ہوئی وہ ذیل میں ملاحظہ ہو : محمد مظہر علی خان صاحب رامپوری اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:- ”میرے مکان کے پیچھے جو کہ شاہ آباد گیٹ میں واقع ہے محلہ کا قبرستان تھا۔صبح کو مجھے اطلاع ملی کہ قبرستان میں لا تعداد مخلوق جمع ہے اور قاسم علی کی لاش جو اس کے اعزہ رات کے وقت چپکے سے مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن کر گئے تھے لوگوں نے باہر نکال پھینکی ہے۔میں فوراً اس ہجوم میں جاداخل ہوا اور بخداجو کچھ میں نے دیکھ وہ نا قابل بیان ہے۔لاش اوندھی پڑی تھی، منہ کعبہ سے پھر کر مشرق کی طرف ہو گیا تھا، کفن اُتار پھینکنے کے باعث متوفی کے جسم کا