انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 585

انوار العلوم جلد 24 585 سال 1954ء کے اہم واقعات پڑپوتوں کو ملا تو تم کو اور تمہارے بیٹوں کو اور تمہارے پوتوں کو تو نہیں ملا۔تو چاہے تم کو ملے گا اور ضرور ملے گا لیکن اگر وہ اگلی نسلوں پر چلا جائے تو یقینا اس کامیابی کا اگلی نسلوں پر چلا جانا تمہارے لئے افسردگی کا ہی موجب ہو سکتا ہے تمہاری خوشی اتنی نہیں ہو سکتی جتنی کہ تمہارے ہاتھ سے ہوتی۔موسیٰ کو بھی کنعان مل گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ مل گیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں موسیٰ کی حیثیت کیا ہے۔کنعان موسیٰ کی اولادوں کو جاکے ملا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مکہ میں داخل ہوئے۔دونوں کی خوشی کبھی ایک جیسی ہو سکتی ہے ؟ اسی طرح تمہاری مثال ہو گی۔اگر تم پوری طرح قربانیاں نہیں کروگے تو تمہاری اولادوں کو تو یہ چیز مل جائے گی لیکن یہ تمہیں نہیں ملے گی تم اپنی موت کے وقت یہ خواہش کرو گے کہ کاش ہم بھی وہ دن دیکھ لیتے جب اسلام دنیا پر غالب ہو تا۔اور چاہے اگلے جہان میں تم کو خدا یہ دکھا ہی دے۔موت کا جو افسوس ہے وہ بھی کوئی کم تکلیف دہ نہیں ہوتا وہ بھی ایک قسم کا ذبح ہونا ہی ہوتا ہے۔جب انسان مرتے وقت یہ خیال کرے کہ میں نے اپنے زمانہ میں یہ چیز نہیں دیکھی۔بے شک کامل مومن کو اللہ تعالیٰ غیبی نظارے دکھا دیتا ہے لیکن کامل مومن سارے تو نہیں ہوتے اسی لئے مومن بعض دفعہ مرتے وقت مسکراتے یا ہنستے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو کامیابیوں کے نظارے دکھا دیتا ہے اور مرنے سے پہلے ان کو خوش کر دیتا ہے لیکن وہ تو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔اگر ظاہر میں وہ چیز آئے گی تو تم میں سے کمزور کو بھی نظر آجائے گی، طاقتور کو بھی نظر آجائے گی، چھوٹے کو بھی نظر آجائے گی، بڑے کو بھی نظر آجائے گی، بوڑھے کو بھی نظر آجائے گی، جو ان کو بھی نظر آجائے گی، عورت کو بھی نظر آجائے گی، بچے کو بھی نظر آجائے گی۔غرض تم اپنے اخلاق کی درستی اس طرح پر کرو اور اپنے آپ کو ایسا محنت کا عادی بناؤ کہ تمہاری قربانیاں بڑھ جائیں اور تمہاری ان چیزوں کو دیکھنے کے بعد آپ ہی آپ لوگ تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں۔اگر اس طرح اخلاق سے کچھ تو باہر سے کھنچے چلے آئیں گے اور کچھ تمہاری طاقت