انوارالعلوم (جلد 24) — Page 580
انوار العلوم جلد 24 580 سال 1954ء کے اہم واقعات کرنا پڑا۔میں نے اسے کہا تم امریکہ والے جو بڑھے ہو تو ہمارے طفیل بڑھے ہو۔اگر ہم اونچے ہو گئے تو امریکہ کو نیچا ہونا پڑے گا۔اگر چین اونچا ہو گیا تو امریکہ کو نیچا ہونا پڑے گا۔اگر انڈونیشیا اونچا ہو گیا تو امریکہ کو نیچا ہونا پڑے گا۔جب تک امریکہ اپنے مقام پر کھڑارہتا ہے ہم کبھی اس تک نہیں جاسکتے بہر حال نیچے ہی رہیں گے۔اب یہ جو دولت باہر سے آتی ہے یہ کیوں آتی ہے ؟ یہ محض اخلاق کی وجہ سے آتی ہے۔قومی تعصب لوگوں میں ہوتے ہیں لیکن وہ ایک حد تک چلتے ہیں آگے پھر رُک جاتے ہیں۔جب قو میں یہ دیکھ لیتی ہیں کہ ہمارے آدمیوں کے اخلاق گرے ہوئے ہیں اور وہ چیزوں میں کھوٹ ملاتے ہیں لیکن جو باہر کے لوگ ہیں وہ بہت اچھی چیزیں بناتے ہیں تو ہمیشہ لوگ اُس سے خرید نے لگ جاتے ہیں۔اب مجھے عام شکایت یہ معلوم ہوئی ہے کہ پاکستان میں لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر انہیں پتہ لگ جائے کہ یہ چیز پاکستان کی بنی ہوئی ہے تو کہتے ہیں بس ہم نہیں لیتے انگلستان کی بنی ہوئی چیز کے فور خریدار مل جاتے ہیں۔گویا وہ اثر اب تک دلوں پر چلا جاتا ہے کہ انگلستان اور امریکہ کی چیز اچھی ہوتی ہے اور ان میں دیانتداری ہوتی ہے۔اگر وہی دیانتداری تم کرنے لگ جاؤ اور وہ دیانتداری تم منوالو کچھ دیر اس میں بے شک لگے گی لیکن اگر تم لوگوں سے اپنی دیانتداری منوالو تو تمہاری وہی چیز ہکنے لگ جائیگی۔مثلاً ہندوستان ہے اس نے یہ بات منوالی ہے چنانچہ اب ہندوستان میں سے جو آدمی آتے ہیں ان سے میں نے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں یہ نام لے دو کہ امریکہ کی ہے تو وہ فوراً چھوڑ دیتے ہیں۔کہیں گے نہیں ہندوستانی لاؤ۔کیونکہ اچھی سے اچھی چیزیں وہاں بننے لگ گئی ہیں اور ان کے معیار اعلیٰ ہو گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اندر کھوٹ نہیں ہے، فریب نہیں ہے اس وجہ سے ان کا کام خوب چل رہا ہے۔تو اگر تم دنیا میں عزت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے اخلاقی معیار بلند کرو۔اگر اخلاقی معیار تم بلند نہیں کرو گے تو دنیا میں تمہیں کوئی عزت نہیں ملے گی۔ہمارے ہاں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم غریب ہیں۔میرے پاس عام طور پر لوگ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں بڑی مصیبت ہے دعا کریں حالانکہ اصل سوال تو یہ ہے