انوارالعلوم (جلد 24) — Page 574
انوار العلوم جلد 24 574 سال 1954ء کے اہم واقعات کوئی نیلا رنگ لیا، کوئی سفید لے لیا اور پھر اس کے ٹکڑے کاٹ کے اور خوبصورت ڈیزائن بنا کے وہ قالین بنا دیتے ہیں جن کو گا بھا کہتے ہیں ہمیں یہ دیکھ کر پسند آیا۔چنانچہ میں نے بھی چاہا کہ یہاں سے دو چار خرید کر لے جائیں اپنے گھروں میں تحفہ دیں گے۔ایک شخص اسلام آباد میں اس کام کے لئے اچھا مشہور تھا۔میں نے اس کو جاکے کہا کہ میں یہ قالین پنجاب میں تحفہ لے جانا چاہتا ہوں تم مجھے اچھے سے بنا دو۔اس نے کہا اچھا کچھ پیشگی دے دیں چنانچہ ہم نے کچھ رقم اس کو پیشگی دے دی اور ہم آگے پہاڑ پر سیر کے لئے چلے گئے۔میں نے اسے یہ بھی کہا کہ دیکھنا میں جو اس کا میئر (MEASURE) بتاؤں گا یعنی لمبائی چوڑائی بتاؤں گا وہ ٹھیک ہو کیونکہ میں کمروں کے لحاظ سے لے رہا ہوں۔اس نے کہا بالکل ٹھیک ہو گا۔جب وہ آئے تو مجھے دیکھتے ہی پتہ لگ گیا کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں اور پھر جو ماپ کر دیکھا تو ایک بالشت چوڑائی میں کمی تھی اور ایک بالشت لمبائی میں کمی تھی۔اب بظاہر تو ایک بالشت معلوم ہوتی ہے لیکن ضرب دو تو بہت بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔میں نے اس کو کہا یہ تو تم نے بڑی دھوکا بازی کی ہے کہ " اس کو چھوٹا بنا دیا ہے۔اس پر اس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ " میں مسلمان ہوں ، میں مسلمان ہوں"۔میں نے کہا مسلمان تو تم ہوئے لیکن سوال یہ ہے کہ تمہاری عملی چیز موجود ہے ہمارے ساتھ تمہارا وعدہ تھا یا نہیں کہ اتنے لمبے چوڑے قالین بناؤں گا؟ اور پھر دو چار آدمیوں کے سامنے یہ بات ہوئی تھی میں نے ان آدمیوں سے کہا کہ بتاؤ تمہارے سامنے اس نے یہ وعدہ کیا تھا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارے سامنے وعدہ کیا تھا۔اس پر میں نے اسے کہا کہ دیکھو تم نے وعدہ کیا تھا وہ اپنے کشمیری لہجہ میں کہنے لگا میں مسلمان ہوندی " کشمیری مرد کو مؤنث بولا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ کہنے لگا۔"جی میں مسلمان ہوندی۔میں مسلمان ہوندی"۔میری عمر اس وقت کوئی انیس میں سال کی تھی مجھے اس پر غصہ چڑھے کہ یہ اپنا فعل اسلام کی طرف کیوں منسوب کرتا ہے۔یہ کہے میں نے ٹھگی کی ہے جانے دو یہ کیوں کہتا ہے کہ میرے مسلمان ہونے کے لحاظ سے میرا یہ حق تھا کہ میں یہ ٹھگی کرتا۔غرض میں اصرار کروں کہ اسے پورا کر اؤ اور وہ یہی کہتا جائے کہ میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں۔گویا اسلام اتنا گر گیا