انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 573

انوار العلوم جلد 24 573 سال 1954ء کے اہم واقعات اور وہاں ان کے واقعات دیکھوج پوچھتا ہے تم نے یہ جرم کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے ہاں کیا ہے۔پھر پوچھتا ہے تم فلاں جگہ پر تھے ؟ وہ کہتا ہے جی تھا۔ہماری عدالت میں چلے جاؤ۔چور کو پولیس والے عین سیندھ کے اوپر سے پکڑ کے لاتے ہیں اور حج پوچھتا ہے تم وہاں تھے ؟ وہ کہتا ہے جی میں تو اس محلہ میں تھا ہی نہیں۔وہ پوچھتا ہے تم کہاں تھے ؟ وہ کہتا ہے میں تو فلاں شہر میں تھا۔پھر وہ پوچھتا ہے ارے پولیس نے تم کو وہاں سے نہیں پکڑا؟ وہ کہتا ہے جھوٹ ہے ان کو مجھ سے فلاں پرانی عداوت تھی اس کی وجہ سے یہ مجھے پکڑ کر لے آئے ہیں۔غرض شروع سے لے کر آخر تک تمام جھوٹ ہی جھوٹ چلتا چلا جاتا ہے۔اور وہاں گو مجرم اپنے بچاؤ کی بھی کوشش کرتا ہے ٹرک بھی کرتا ہے لیکن غیر ضروری ٹرک نہیں کرتا۔اور یہاں غیر ضروری جھوٹ بولا جاتا ہے مثلاً چوری کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں کہ اُس نے اُس وقت کالا کوٹ پہنا ہوا تھا یا لال لیکن وہ اگر کہیں گے کہ کالا کوٹ پہنا ہوا تھا تو یہ کہے گا نہیں میں نے تو لال پہنا ہوا تھا یا مثلاً وہ کہہ دیں گے تمہارے ہاتھ میں چھڑی تھی۔اب اس کا چوری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بھلا چوری کا چھڑی سے کیا تعلق ہے لیکن یہ کہے گا نہیں میرے ہاتھ میں چھڑی نہیں تھی میرے ہاتھ میں قرآن شریف تھا۔غرض وہ غیر ضروری جھوٹ جس کا مقدمہ کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا وہ بھی یہ بولتا ہے اور ہر بات میں ان کی تردید کرتا جائے گا اور کہے گا یہ نہیں تھا لیکن یورپ میں چلے جاؤ وہ سو میں سے ننانوے باتیں مان لے گا کوئی ایک اپنی جان بچانے کے لئے بیچ میں ٹرک بھی کر جائے گا۔باقی سب باتوں کے متعلق کہے گا کہ ٹھیک ہیں۔اسی طرح سو دوں کو دیکھ لو وہ اپنے کئے ہوئے سودوں کے متعلق جو بھی وعدہ کریں گے اسے پورا کریں گے لیکن ہمارے ملک میں سودے کر کے دیکھ لوسب باتوں میں جھوٹ شروع ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں کشمیر گیا۔وہاں ایک قسم کی قالین بنتی ہے جو اونی ٹکڑے کاٹ کاٹ کے اور پھر اُن کو سی کر بناتے ہیں اور اس کو گا بھا کہتے ہیں۔اس میں وہ مختلف رنگ کے دُھنے رنگتے ہیں کوئی سبز رنگ لیا، کوئی زرد رنگ لیا، کوئی سرخ رنگ لیا،