انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 570

انوار العلوم جلد 24 570 سال 1954ء کے اہم واقعات حساب گورنمنٹ نے بنایا ہوا ہے وہ اگر لگایا جائے تو مڈل سکول پر کم سے کم ہیں پچیس ہزار روپیہ لگے گا۔پورے سکول یا کالج پر تو ڈیڑھ دو لاکھ لگتا ہے۔اب بیس ہزار کو پچیس ہزار کے ساتھ ضرب دو تو پچاس کروڑ بن گیا گویا پچاس کروڑ کے ابتدائی خرچ کے ساتھ صرف مدر سے بنتے ہیں۔پھر سکول کے سامان اور فرنیچر وغیرہ کے اخراجات ملائے جائیں تو یہ کوئی ارب ڈیڑھ ارب روپیہ بن جاتا ہے۔اور پھر مرمت کے سامان الگ ہیں اتنا خرچ ایک غریب قوم کر ہی کہاں سکتی ہے۔پس سیدھی سادی تعلیم تمہارا اصل مقصود ہونی چاہئے۔عمارتیں اور پکی عمارتیں اور چونا مقصود نہیں ہونا چاہئے۔پس تعلیم دو اور اپنی اپنی جگہوں پر راتوں کو مسجدوں میں بیٹھ کر دو۔ہمارے ہاں کتنا سستا سامان تھا کہ ہمارے مدرسے ہماری مسجدیں ہوتے تھے۔وہیں لوگ آجاتے تھے ، نماز پڑھتے تھے اور نماز کے بعد بیٹھ کر لوگوں کو پڑھانا شروع کر دیتے تھے۔پس اگر تم سارے کے سارے یہ عہد کر لو کہ تمہارا امام یا تم میں سے کوئی بڑا شخص ہر نماز کے بعد پندرہ بیس منٹ یا آدھ گھنٹہ سب کو سبق دے دیا کرے گا اور جتنے مرد اور عور تیں ہیں ہر ایک کے ذمہ یہ لازمی طور پر لگا دو کہ تم نے اپنی زبان میں پڑھنا ہے تو تمہارے اندر اتنا تغیر ہو جائے گا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی تمہیں یہ نظر آئے گا کہ دنیا میں تمہارے برابر کوئی علمی قوم ہی۔کوئی نہیں۔ایک بات جس کو اب میں ختم تو نہیں کر سکتا لیکن اس کی ابتدائی چند باتیں بتا دیتا ہوں یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا میں ہر دفعہ جلسہ کے موقع پر کچھ نہ کچھ بیان کر دیتا ہوں لیکن وہ سارے کا سارا کہا ہوا بے کار چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک گر بتایا تھا کہ جب رمضان آئے تو انسان یہ عہد کر لے کہ ایک بدی میں چھوڑ دوں گا اور ایک نیکی میں اختیار کرلوں گا۔باقیوں کو جانے دے اگر وہ ایسا کرلے تو آپ فرماتے ہیں کہ تھوڑے دنوں میں ہی ایک بڑی طاقت اس کے اندر پیدا ہو جائے گی۔دس بیس سال میں دس ہیں اہم بدیاں ایسی ہو جائیں گی جن کو وہ چھوڑنے والا ہو گا اور دس ہمیں اخلاق ایسے پیدا ہو جائیں گے جن کو وہ کرنے والا ہو گا۔