انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 25

انوار العلوم جلد 24 وہ 25 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپ نے خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کیا بتایا ہے۔اگر مسلمان بھی اسی طرح ناواقف ہو تو ہ مسلمان کیسے ہوا۔کافر خدا کی مرضی پر چلنے کی بجائے اپنی مرضی پر چلتا ہے۔مسلمان بھی اگر اسی طرح خود سر اور آزاد ہو ، اسی کی طرح اپنے ذاتی خیالات اور اپنی رائے پر چلنے والا ہو ، اسی کی طرح خدا سے بے پر واہ اور اپنی خواہش کا بندہ ہو تو اسے اپنے آپ کو مسلمان (خدا کا فرمانبردار) کہنے کا کیا حق ہے۔کافر حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا اور جس کام میں اپنے نزدیک فائدہ بالذات دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے چاہے خدا کے نزدیک وہ حلال ہو یا حرام۔یہی رویہ اگر مسلمان کا ہو تو اس میں اور کافر میں کیا فرق ہوا؟ غرض یہ کہ جب مسلمان بھی اسلام کے علم سے اتنا ہی کو راہے جتنا کا فر ہو تا ہے اور جب مسلمان بھی وہی سب کچھ کرے جو کافر کرتا ہے تو اس کو کافر کے مقابلہ میں کیوں فضیلت حاصل ہو اور اس کا حشر بھی کافر جیسا کیوں نہ ہو “۔37 اب مولانا صاحب فرمائیں کہ وہ کون سے مسلمان ہیں جن کو احمدیوں نے کافر قرار دیا ہے۔وہ اوپر کے حوالہ میں اشار تا فیصلہ کر چکے ہیں کہ سوائے ان کی جماعت کے اور کوئی مسلمان ہی نہیں اور جب یہ بات ہے تو پھر ان کا غصہ صرف اسی بات پر ہے نہ کہ ان کے اتباع کو کیوں کافر قرار دے دیا گیا۔باقی مسلمانوں کو تو وہ خود بھی کافر کہہ چکے ہیں۔66 لیکن ہم یہاں یہ کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کے نزدیک کافر کی بھی تعریف اور ہے جس طرح نبی کی تعریف اور ہے۔کفر کے جو معنے آجکل کے علماء کرتے ہیں احمدیوں کے نزدیک مسلمان تو خیر مسلمان ہیں ہی، یہودی اور عیسائی اور ہندو بھی اس تعریف کی رو سے کافر نہیں کہلا سکتے کیونکہ کفر کی وہ تعریف نہایت ظالمانہ ہے۔