انوارالعلوم (جلد 24) — Page 561
انوار العلوم جلد 24 561 سال 1954ء کے اہم واقعات لوگ اپنے گھروں میں جس طرح آرام سے کتاب پڑھ سکتے ہیں اس طرح مبلغ کے پاس نہیں آسکتے۔مبلغ کے پاس تو کبھی مہینہ میں ایک دفعہ موقع مل گیا تو آگئے لیکن کتاب تو بعض ایسے اچھے پڑھنے والے ہوتے ہیں کہ ہر تیسرے چوتھے دن پڑھ کر ختم کر سکتے ہیں۔پس جماعتوں کو چاہئے کہ جہاں جہاں بھی مرکزی جماعتیں ہیں وہ اپنی اپنی جگہوں پر کسی مکان کا انتظام کریں اور پھر دعوۃ و تبلیغ سے اصرار کریں کہ وہ ان کے لئے لٹریچر مہیا کرے۔لیکن یہ لٹریچر وہیں مہیا کیا جائے گا جہاں ہمارا مبلغ ہو گا یا مبلغ کی جگہ پر کوئی اچھا کارکن ہو گا جس کی جماعت ضمانت دے کہ یہ کتابوں کو سنبھال کر رکھے گا ضائع نہیں کرے گا۔لیکن جو ضلع وار جماعتیں نہیں اگر ان میں بھی جوش ہے اور اخلاص ہے اور وہ بھی اس قسم کے مکان کا انتظام کر سکتی ہیں اور آدمیوں کا انتظام کر سکتی ہیں تو ان کے اس یقین دلانے پر میں محکمہ کے پاس ان کی سفارش کروں گا کہ وہ ان کی جگہ پر بھی لائبریری قائم کر دے تا کہ وہ بھی اپنے علاقہ میں تربیت اور تعلیم کا کام جاری کر سکیں۔ایک بات میں جماعت کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مساجد کا قیام ہمارے ہاں اکثر جگہوں پر نہیں ہے بڑی افسوس کی خبر آتی ہے جب کسی جماعت کی طرف سے یہ اطلاع آتی ہے کہ فلاں جگہ فلاں کے مکان پر نماز پڑھ رہے تھے کہ وہ کچھ خفا ہو گیا اور اس نے کہا نکالو اپنی چٹائیاں یہاں سے۔تم اگر کبھی یہ سن لو کہ کسی کے گھر میں تمہارا بیٹا مہمان تھا اور اس نے اسے نکال دیا تو تمہارے لئے یہ بات نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔پھر تم یہ کس طرح سن لیتے ہو کہ تمہارے خدا کو کسی نے نکال دیا ہے۔آخر مسجد خدا کا گھر ہے جب ایک جگہ پر کسی نے کمرہ دیا اور اس کے بعد کسی سیکرٹری سے یا پریذیڈنٹ سے یا اور کسی آدمی سے وہ خفا ہو گیا اور اس نے کہا اٹھاؤ چٹائیاں اور لے جاؤ میں نہیں دیتا اپنا مکان نماز کے لئے۔تو یہ ذلت تو ایسی ہے کہ انسان کے دل میں خیال آنا چاہئے کہ اس سے تو مرنا بہتر ہے۔خدا تعالیٰ کو اس کے گھر سے نکال دیا گیا تو ہماری زندگی کس کام کی۔آخر اس میں دقت کیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو آپ سے بڑھ کر شان کس کی ہونی ہے۔آپ نے معمولی زمین لی اور اس پر کچی دیواریں کھڑی کیں اور اوپر کھجور کی