انوارالعلوم (جلد 24) — Page 555
انوار العلوم جلد 24 555 سال 1954ء کے اہم واقعات بڑے مقام پر نہیں لڑی جائیگی ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے وہاں لڑی جائے گی۔دیکھو ! یہ 1917ء کی بات ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ سینتیس سال اس کے اوپر رگئے۔سینتیس سال ہوئے جب ہماری طاقت بالکل کم تھی، جب ابھی تحریک جدید کا نام بھی نہیں تھا اُس وقت اس شخص کی ذہانت نے بھانپ لیا کہ آئندہ اسلام اور عیسائیت کی جنگ قادیان میں ہونی ہے۔مگر اب تو تمہارے نام سے سارے کے سارے واقف ہیں۔دیکھو ٹائن بی جو اس وقت سب سے بڑا مورخ مانا جاتا ہے اور قریباً گبن کی پوزیشن اس کو ملنے لگ گئی ہے بلکہ بعض تو اس سے بھی بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسا مؤرخ کبھی نہیں گزرا اس نے اپنی تاریخ میں کہا ہے کہ دنیا میں جو ر ڈو بدل ہوا کرتے ہیں اور تغیر آیا کرتے ہیں وہ اخلاقی اقدار سے آتے ہیں۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی بڑی چیز ہو یا بڑی طاقت ہو تو اس سے تغیرات ہوتے ہیں یہ غلط بات ہے۔پھر اس نے مثال دی ہے اور اس نے لکھا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ اب اسلام کی ٹکر ہو گی جس کے سامان نظر آرہے ہیں۔آگے اس کے مطالعہ کی غلطی ہے اس نے سمجھا ہے کہ شاید یہ جو بہائی ہیں یہ بھی مسلمان ہی ہیں حالانکہ وہ تو کہتے ہیں ہم مسلمان نہیں ہیں بہر حال وہ کہتا ہے یہ بہائی ازم اور احمدی ازم یہ دو چیزیں نظر آرہی ہیں جن میں مجھے آئندہ لڑائی والی جھلک نظر آرہی ہے۔ان کے ساتھ ٹکر کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ آئندہ تہذیب کی بنیاد اگلی صدیوں میں اسلام پر قائم ہوگی یا عیسائیت پر قائم ہو گی۔پھر اس نے ایک مثال دی ہے کہتا ہے ہم تو گھوڑ دوڑ کے شوقین ہیں ہمارے ہاں عام گھوڑ دوڑ ہوتی ہے ہم گھوڑ دوڑ والے جانتے ہیں کہ بسا اوقات جو گھوڑا سب سے پیچھے سمجھا جاتا ہے وہ آگے نکل جاتا ہے۔تو وہ کہتا ہے یہ مت خیال کرو کہ احمدی اِس وقت کمزور ہیں کیونکہ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ پچھلا گھوڑا آگے نکل جاتا ہے اسی طرح اب تم کو یہ کمزور نظر آتے ہیں لیکن مجھے ان میں وہ ترقی کا بیج نظر آرہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی وقت عیسائیت کے ساتھ ٹکر لیں گے اور شاید یہی جیت جائیں۔دیکھو اتنا بڑا شخص جس کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے بڑا