انوارالعلوم (جلد 24) — Page 24
انوار العلوم جلد 24 24 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب (مولانا روم وہ ہیں جن کی شاگردی اور نقل کا دعوی ڈاکٹر اقبال کو ہے اور اقبال وہ ہیں جن کو آجکل کے علماء کا طبقہ قائد اعظم سے بڑھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔مولانا مودودی صاحب فرمائیں کہ یہ مولانا روم بھی اسلام سے خارج اور کشتنی اور گردن زدنی تھے یا ان کا یہ دعویٰ صحیح تھا؟) مسئله لہ کفر و اسلام کی حقیقت (4) آگے چل کر مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ نبوت کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ احمدیوں نے یہ اعلان کر دیا کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔مولانا مودودی صاحب اور ان کے اتباع کو یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب تو خدا کی طرف سے مامور تھے۔حدیثوں میں تو یہ بھی آتا ہے کہ مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ جِهَارًا۔30 یعنی جو شخص جانتے بوجھتے ہوئے نماز کو چھوڑتا ہے وہ اپنے کفر کا خود اعلان کر دیتا ہے۔اب مولانا مودودی صاحب فرمائیں کہ کتنے مسلمان آجکل نماز پڑھتے ہیں؟ ہم اوپر بتا آئے ہیں کہ مولانا مودودی صاحب پوری طرح صحیح واقعہ بیان کرنے کے عادی نہیں ہیں لیکن یہ اتنی کھلی بات ہے کہ ہم اس میں مولانا مودودی صاحب کی گواہی ہی ماننے کے لئے تیار ہیں۔وہ بتادیں کہ سو میں سے ایک نماز پڑھتا ہے یا ہزار میں سے ایک نماز پڑھتا ہے یا کتنے پڑھتے ہیں اور آیا وہ جان بوجھ کر نماز کے تارک ہیں یا نماز کے وقت کوئی شخص انہیں پکڑ لیتا ہے۔مولانا مودودی صاحب اس گواہی کے دینے سے پہلے مہربانی فرما کر اپنا یہ بیان ضرور پڑھ لیں:۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ مسلمان اور کافر میں علم اور عمل کے سوا کوئی فرق نہیں ہے اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کافر کا ہے اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو وہ بالکل جھوٹ کہتا ہے۔کافر قرآن کو نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے۔کافر نہیں جانتا کہ