انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 551

انوار العلوم جلد 24 551 سال 1954ء کے اہم واقعات وہ جگہ اس لئے دکھائی گئی تھی کہ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے جوش کی وجہ سے بعض باتیں پیدا ہوئیں بہر حال میں نے دیکھا کہ میں انکوائری کمیشن ہال میں ہوں اور میرے پیچھے سے کسی شخص نے آکر مجھ پر حملہ کیا ہے اور میں گر گیا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ساتھ کوئی اور آدمی بھی ہے۔کہتے ہیں واللهُ اَعْلَمُ کہاں تک ٹھیک ہے کہ کوئی شخص اُس وقت مسجد سے بھاگا تھا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی اور شخص بھی اس امید سے بیٹھا ہوا تھا۔بہر حال وہ رویا میں نے دوستوں کو سنادی تھی اور پھر اسی طرح ہوا کہ پیچھے سے ایک شخص نے حملہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی۔رض اس کے بعد میں تحریک جدید کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔بات یہ ہے کہ جوں جوں کام بڑھتا چلا جاتا ہے اس کے مطابق تدبیر بھی بڑھتی چلی جانی چاہئے تمہارے ذمہ جو کام ہیں وہ اتنے عظیم الشان ہیں کہ دنیا کے پر دہ پر اس زمانہ میں کسی کے ذمہ وہ کام نہیں۔ایک زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔بڑا بوجھ تھا صحابہ پر۔چند صحابہ تھے جن پر دنیا کی اصلاح فرض تھی پر اب تو وہ صحابہ زندہ نہیں۔اگر آج وہ صحابہ زندہ ہوتے تو میں تمہیں کہتا کہ دیکھو یہ تم سے زیادہ بوجھ اٹھا ر ہے ہیں مگر وہ تو فوت ہو چکے۔اب تمہارا زمانہ ہے تم یہ بتاؤ کیا اس وقت بھی دنیا میں کوئی جماعت ہے جس پر اتنا بوجھ ہو جتنا تم پر ہے ؟ آج تمہیں دنیا کے پردہ پر کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آئے گی جس پر اتنا بوجھ ہو جتنا تم پر ہے اور تمہارا کام ایسا ہے جو روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے۔جتنا تم چندہ دیتے ہو اتناہی تم اگلے چندہ کے لئے اپنے آپ کو مجبور کرتے ہو کیونکہ جب تم چندہ دیتے ہو ہم کہتے ہیں بھئی یہ روپیہ ضائع نہ ہو ایک مشن اور کھول دو۔جب ہم وہ مشن کھولتے ہیں تو اب کسی اور مشن کو چلانے کے لئے پھر روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے پھر تمہیں کہتے ہیں اور دو۔ہم دو یا چار یا پانچ مشن کھول کر بند کر دیتے تو خرچ نہ بڑھتا مگر جوں جوں تم چندہ دیتے چلے جاتے ہو ہم کام بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور ججوں جوں کام بڑھتا چلا جاتا ہے پھر ہم کو اور روپیہ مانگنا پڑتا ہے۔گویا ہماری مثال بالکل اسی قسم کی ہو گئی ہے جیسے کہتے ہیں کسی چیتے نے کوئی سل پڑی ہوئی دیکھی تو وہ سل کو چاٹنے لگا۔سل چونکہ گھر دری ہوتی