انوارالعلوم (جلد 24) — Page 22
انوار العلوم جلد 24 22 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب اور جس قسم کے شاندار وجود پیدا ہوئے ہیں ہم تو دیکھتے ہیں کہ موسوی اُمت اور دوسری بہت سی اُمتوں میں وہ لوگ جو کہ انبیاء کے نام سے پکارے جاتے ہیں ان سے ان کی شان کم نہیں تھی بلکہ بعض لحاظ سے بڑی تھی۔مولانا مودودی صاحب کو احمدیوں کا غم کھائے جارہا ہے لیکن اسلام کا غم ان کے پاس تک نہیں پھٹکتا۔اپنی عظمت کے حصول کی تمنا انہیں جلائے جارہی ہے لیکن عظمائے اسلام کی عظمت کے قیام کا خیال تک ان کے پاس نہیں پھٹکتا۔ان کے نزدیک وہ سب کے سب نہایت گھٹیا قسم کے لوگ تھے اور نبوت کے کمالات سے محروم تھے جبکہ نہایت چھوٹے چھوٹے آدمی بنی اسرائیل کے اس مقام کو گئے۔جب احمدی یہ کہتے ہیں کہ ہزاروں آدمی اس اُمت میں کمالاتِ نبوت حاصل کرنے والے آسکتے ہیں تو وہ اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عُلَمَاءُ أُمَّتِى كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل۔باقی رہا یہ کہ خدا کی حکمت بعض مصلحتوں کی بناء پر اور بعض فتنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی وقت کسی کو نبی کا نام نہیں دیتی تو یہ کوئی بات نہیں۔اصل بات تو حقیقت کا پایا جانا ہے۔جب حقیقت کسی میں پائی جاتی ہے تو خواہ ہم اس کا نام وہ نہ رکھیں یہ تو ہم ضرور کہیں گے کہ اس مقام کے لوگ اُمتِ محمدیہ میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے چلے جائیں گے کوئی حسد سے جل جائے کوئی بغض سے مر جائے ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سب نبیوں سے بالا ہے۔آپ کی شان سب نبیوں سے ارفع ہے۔آپ کے شاگ پہلے نبیوں کے شاگردوں سے ارفع ہیں۔جو جلتا ہے جلے۔اس صداقت کے اعلان سے ہم باز نہیں رہ سکتے۔(3-ج) اس کے بعد مودودی صاحب تعریف نبوت اور بانی سلسلہ احمدیہ لکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے موجودہ خلیفہ نے لکھا ہے کہ شریعت اسلامی جو معنے کرتی ہے ان معنوں کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب ہر گز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔یہ سخت غضب ہو گیا ہے۔نہ معلوم مولانا کو اس پر کیوں غصہ آیا۔جماعت احمدیہ کے موجودہ خلیفہ تو یہ بھی کہتے ہیں