انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 529

انوار العلوم جلد 24 529 سال 1954ء کے اہم واقعات تو حکم نہیں دے سکتے کہ نوکری کے بعد اپنی بیوی کو ضرور بلاؤ اور جب میری شادی ہو جائے گی تو میں نے اس سے پردہ کروانا ہی نہیں۔یہ شکایات زیادہ تر فوجی افسروں کے متعلق ہیں۔ایک دن ایک عورت آتی ہے یا اس کے رشتہ دار آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ خوب پردہ کرتی ہے اور پھر دو مہینے کے بعد وہی بے پر د ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ تو ہم نے ایسا دیکھا ہے کہ شادی کے بعد دس دس پندرہ پندرہ سال فوج میں گزارے ہیں اور پر دہ ہوا ہے لیکن جب ترقی کا سوال آیا کہ شاید اب کر نیلی کے اوپر بریگیڈیئر ہو جائیں تو پر دہ چھوڑ دیا۔گویاوہ بیوی کی بھیک سے بریگیڈیئر بننا چاہتے ہیں۔اسی طرح اور کئی چیزیں ہیں میں مثال نہیں دیتاور نہ ان لوگوں کے نام ظاہر ہو جاتے ہیں اور وہ پکڑے جاتے ہیں۔بہر حال ایسی ایسی باتیں دیکھی گئی ہیں جو حیرت انگیز ہیں اگر تو کوئی شخص یہی کہتا کہ چلو میں ان باتوں کو نہیں مانتا تو اس میں بھی کم سے کم کچھ وقار تو ہو تا ہے مگر بیوی کو ان کی جھولی میں ڈال کر یا اپنی بھیک کے ٹھیکرے میں بیوی ڈال کر اپنی ترقی لینی یا اپنی عزت لینی بہت ہی چھچھوری اور ذلیل بات ہے۔یہ چیز ہے جس کی طرف میں خصوصیت کے ساتھ عورتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور ساتھ ہی مردوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں تو وہ ذرا ہمت کریں۔جن کو ترقیاں نہیں ملتیں ان کو پھر بھی نہیں ملتیں۔آخر کیا سارے کرنیل جرنیل ہو گئے ہیں، کیا سارے میجر جنرل لیفٹینٹ جنرل ہو گئے ہیں، کیا سارے لیفٹینٹ جنرل فل جنرل ہو گئے ہیں۔تم یہ کیوں خیال کرتے ہو کہ تمہاری بیوی کے پر دے کی وجہ سے تم فل جرنیل نہیں ہوئے۔تم یہ کیوں خیال کرتے ہو کہ تمہاری بیوی کے پردے کی وجہ سے تم لیفٹینٹ جنرل نہیں ہوئے۔تم یہ کیوں خیال کرتے ہو کہ تم بریگیڈیئر سے میجر جنرل صرف پردہ کی وجہ سے نہیں ہوئے۔کہنے والے تمہیں دھوکا دینے کے لئے بیسیوں باتیں کہہ دیتے ہیں۔اسی طرح کوئی یہ بھی کہہ دیتا ہو گا کہ جناب آپ کی بیوی چونکہ پردہ کرتی ہے اس لئے آپ کی طرف افسروں کی توجہ نہیں لیکن یہ یادر کھو کہ ایسے معاملات کے ساتھ کچھ وقار کی جس بھی وابستہ ہوتی ہے اگر تم کسی کے اندر یہ عید تو اس کو بڑی محبت اور ہوشیاری کے ساتھ سمجھاؤ بیوقوفی سے نہ سمجھاؤ کیونکہ یہ نقص تبھی۔