انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 501

انوار العلوم جلد 24 501 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء ہم اس یتیم کو اپنے گھر لے جائیں گے اور پالیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔دنیا کے لوگوں نے ایک قہقہہ لگایا اور انہوں نے کہا کہ کتنے بے وقوف ہیں یہ لوگ ! گھر میں کھانے کو نہیں دوسروں کو پالنے کے لئے آگے آتے ہیں۔آسمان کے فرشتوں نے بھی ایک قہقہہ لگایا اور انہوں نے کہا کتنے نادان ہیں یہ لوگ ! ان کو پتہ نہیں کیا چیز اپنے گھر لے جارہے ہیں۔کل کو یہ چیز ان کے لئے وبالِ جان ثابت ہو گی اور کل کو یہ ذمہ داری اتنی بو جھل ہو گی کہ یہ اپنی گردنیں چھڑانے کی کوشش کریں گے۔لیکن عرش کے مالک خدا نے کہا کہ میری آواز پر جس نے پہلے لبیک کہا ہے خواہ وہ کتنا ہی نالائق سہی میں اب اس کی عزت کروں گا اور یہ امانت اس کے حوالے کر دوں گا۔تم اس کو لے کر اپنے گھروں میں آگئے۔تم خوش تھے کہ ہم نے ایک غریب اور یتیم کی پرورش کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔تمہارے واہمہ میں بھی اُس وقت نہیں تھا کہ ایک دن اس یتیم کے پالنے کی وجہ سے تم دنیا کے سردار کہلاؤ گے ، تم دنیا کے راہنما کہلاؤ گے، تم دنیا کے بادی کہلاؤ گے۔لیکن اس سے پہلے تمہیں اپنی گردنیں تلواروں کے نیچے رکھنی ہوں گی تا کہ کند تلواروں سے تم کو ذبح کیا جائے اور تمہارے ایمانوں کا امتحان لیا جائے۔جوں جوں وہ یتیم بڑھتا گیا تمہاری ذمہ داریاں بھی بڑھتی گئیں، تمہاری قربانیاں بھی بڑھتی گئیں تم پر مطالبات بھی بڑھتے گئے۔کچھ نے خوشی سے ان مطالبات کو پورا کیا اور کچھ نے دل میں انقباض محسوس کرنا شروع کیا۔کچھ آئے اور پیچھے ہٹ گئے ، کچھ آئے اور آگے نکل گئے۔غرض کچھ پیچھے سے آکر سابق ہو گئے اور کچھ سابق کے آئے ہوئے پیچھے رہ گئے۔مگر یہ ہوا ہی کرتا ہے یہ تمہارا نرالا تجربہ نہیں۔بلکہ ہمیشہ ہی جب خدا تعالیٰ کوئی نئی تحریک قائم کرتا ہے تو ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے، ایسا ہی ہو تا چلا جائے گا۔تو تم آئے ہو اپنی اس قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لئے ، اپنے اس عہد کو دہرانے کے لئے ، اپنے اخلاص کا تحفہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لئے اور اس کو یہ بتانے کے لئے کہ اے ہمارے رب! جب ہم نے یہ بوجھ سنبھالا تھا تو ہم اس کی ذمہ داری سے واقف نہیں تھے مگر اب جبکہ ہماری آنکھیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور ہماری ذمہ داریاں ہمارے لئے واضح ہوتی جاتی ہیں