انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 498

انوار العلوم جلد 24 498 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء چھوڑ چار گھنٹے بھی چھوڑیئے انہوں نے پھر نا ہی ہے۔اس لئے ان کی وجہ سے ہم لوگوں کو جو کہ سلسلہ کی باتیں اور دین کی باتیں سننے کا شوق رکھتے ہیں محروم نہیں رکھنا چاہیئے۔بہر حال دنیا میں ہر چیز کے لوگوں نے دو پہلو بنائے ہوئے ہیں بلکہ اگر ان کو موقع ملے تو چار چار پانچ پانچ دس دس پہلو بھی بنا لیتے ہیں۔حتی کہ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی لوگوں نے دو پہلو بنالئے ہیں حقیقتا تو کئی ہیں لیکن بہر حال کوئی کہتے ہیں کہ خدا ہے اور کوئی کہتے ہیں کہ خدا نہیں ہے۔تو اس میں بھی اختلاف ہونا کوئی بعید بات نہیں لیکن چونکہ جلسہ اس غرض سے کیا جاتا ہے کہ احباب جماعت زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اس لئے ان کے مشورہ اور ان کی رائے کو بھی سننا اور اس پر غور کرنا ضروری امر ہے۔پس اختلاف کو دیکھتے ہوئے میں نے انجمن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جماعت کی مجلس شوری کے سامنے اس مسئلہ کو رکھ دیں کہ ہمارا جلسہ کا پروگرام کس طرح ہوا کرے اور کتنے وقت کے لئے ہؤا کرے۔جماعتوں کو اب چاہئے کہ جب شوری پر ان کے نمائندے منتخب ہو کر آئیں تو وہ ان کو اپنی مرضی بتا دیں کہ ہم یوں چاہتے ہیں۔ہر جماعت غور کر کے اپنے نمائندے کو ہدایت دے دے۔وہ نمائندہ شوریٰ میں آکر اپنی رائے پیش کر دے گا اور جماعت کی کثرت اس معاملہ میں جس امر پر متفق ہو گی اُس پر اُس وقت ہم عمل کر لیں گے۔در حقیقت جلسہ کے اوقات تو ضرورت کے مطابق بدلتے رہے ہیں اور بدل سکتے ہیں۔تاریخیں جلسہ کی ہم نے وہی رکھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے ابتدائی زمانہ سے چلی آرہی ہیں مگر جلسہ کا موجودہ روزانہ کا پروگرام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ثابت نہیں۔اُس وقت پروگرام مختلف رنگ میں ہوتا تھا۔بعض دفعہ ایسا ہو تا تھا کہ اصل تقریر تو حضرت صاحب کی مقرر ہو جاتی تھی اور بیچ میں کبھی لوگ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس چلے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ہمیں کچھ سمجھائیں اور نصیحت کر دیں تو وہ کر دیتے تھے۔کبھی حضرت صاحب کو کہتے تھے کہ وقت فارغ ہے تو آپ خود ہی فرما دیتے تھے کہ آج مولوی نور الدین صاحب کا لیکچر ہو گا، کبھی مولوی عبد الکریم صاحب لیکچر کر دیتے تھے ، کبھی کوئی اور دوست لیکچر کر دیتے تھے بہر حال وہ