انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 497

انوار العلوم جلد 24 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 497 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء نَحْمَدُهُ وَ نَصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1954ء (فرمودہ 26 دسمبر 1954ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”جیسا کہ احباب کو پروگرام سے معلوم ہو گیا ہو گا اس سال جلسہ کے پروگرام میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جلسہ کی ابتد ا پندرہ منٹ دیر سے کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے یعنی بجائے نو بجے کے سوا نو بجے جلسہ شروع ہوا کرے گا اور پہلے اجلاس کے ختم ہونے کا وقت جو کہ پہلے ساڑھے گیارہ اور عملاً ساڑھے بارہ بجے تک جاتا تھا یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا تھا اس کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ گیارہ سوا گیارہ سے آگے نہ جائے اور دو گھنٹے درمیان میں فاصلہ دیا جائے تا کہ جن لوگوں نے کھانا کھانا ہو وہ کھانا کھالیں، پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو وہ اس کو پورا کر لیں، جو کمزور لوگ تھک گئے ہوں وہ ذرا چل پھر کر اپنی لاتیں ٹھیک کر لیں تا کہ اگلے اجلاس میں وہ نماز پڑھنے کے بعد آرام اور سہولت کے ساتھ آسکیں۔در حقیقت یہ تحریک باہر سے ہوئی تھی اور چونکہ پہلے بھی بعض لوگ اس کے متعلق کہتے رہتے تھے میں نے اس تحریک کو پسند کیا اور انجمن کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کے مطابق اپنے پروگرام کو تبدیل کرے۔لیکن جب یہ بات شائع ہوئی تو بعض لوگوں نے اس کے خلاف بھی احتجاج کیا۔ان لوگوں نے لکھا کہ جو تو شوق رکھتے ہیں وہ تو جلسہ کے بعد بھی بیٹھے رہتے ہیں اور ہر جماعت میں سے باری باری لوگ پیشاب پاخانہ سے فارغ ہو کر آجاتے ہیں اور وہیں نماز پڑھتے ہیں۔اور جو لوگ شوق نہیں رکھتے ان کے لئے آپ دو گھنٹہ