انوارالعلوم (جلد 24) — Page 486
انوار العلوم جلد 24 486 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب طرح نہیں ہوا جس طرح آپ نے بیان کیا ہے بلکہ یہ واقعہ اس طرح ہوا ہے اس موقع پر میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔اس پر وہ خاموش ہو گئے۔اس کے بعد ایک دن دوبارہ انہوں نے ایک مجلس میں ایک واقعہ سنایا اس موقع پر بھی میں نے کہا آپ کو اس واقعہ کے بیان کرنے میں غلطی لگی ہے۔میں بھی آپ کے ساتھ تھا واقعہ اس طرح نہیں ہے جس طرح آپ نے بیان کیا ہے۔انہوں نے کہا تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن ایسا کہنے میں وہ کچھ انقباض محسوس کر رہے تھے۔کھانا کھانے کے بعد جب وہ کمرہ سے باہر نکلے تو انہوں نے میری گردن ہاتھ مار کر کہا کہ کیا جھوٹ بولنا تیرا اور تیرے باپ کا ہی حق ہے میرا حق نہیں ؟ تو اب دیکھو اگر چہ وہ ایک بڑے آدمی تھے لیکن انہیں جھوٹ بولنے کی عادت پڑی ہوئی تھی۔دو دفعہ انہیں ٹوکا گیا تو انہوں نے برداشت کر لیا لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ جب میں مجلس کو گرمانے کے لئے مبالغہ آمیز بات کرتا ہوں تو تمہیں کیا حق ہے کہ مجھے ٹو کو۔لیکن تم اگر چاہو تو اس قسم کی عادتوں کو ترک کر سکتے ہو اور اس طرح ہماری قوم ترقی کر سکتی ہے۔تم دیکھتے ہو کہ ہمارے ملک میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور اس بے اطمینانی کی یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے قول اور فعل میں فرق ہے۔مجھے یاد ہے جب میں یورپ گیا تو رستہ میں کچھ روز ہم دمشق میں بھی ٹھہرے۔ہمارے خلاف کسی نے ایک اشتہار شائع کیا اس کے جواب میں ہم نے بھی ایک اشتہار شائع کیا۔پولیس نے ہمیں اطلاع دی کہ آپ کا وہ اشتہار ضبط کر لیا گیا ہے۔اُن دنوں وہاں دو گور نر ہوا کرتے تھے۔ایک فرانسیسی اور دوسرے شامی۔دوسرے دن میں فرانسیسی گورنر سے ملنے گیا تو میں نے ان سے اشتہار کا ذکر کر دیا کہ وہ دوسرے لوگوں کے ایک اشتہار کے جواب میں تھا لیکن پولیس نے چھاپہ مار کر اسے ضبط کر لیا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا یہ بُری بات ہے لیکن دراصل اس بات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں مجھے افسوس ہے کہ یہ حکم شامی گور نر کا ہے۔آپ کل اپنے کسی آدمی کو بھجوائیں تو میں ان سے کہوں گا کہ وہ اس بارہ میں مناسب غور کریں۔چنانچہ دوسرے دن میرا سیکر ٹری وہاں چلا گیا تو شامی گورنر نے کہا یہ دراصل دوسرے گورنر کی شرارت ہے میں اس کی تحقیقات کروں گا۔جب میرے سیکر ٹری باہر آئے تو گورنر کی