انوارالعلوم (جلد 24) — Page 485
انوار العلوم جلد 24 485 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار کے معمار ہوتے ہیں۔اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر تم اپنی بری عادات چھوڑ دیتے ہو تو تم فی الواقع قوم کے معمار ہو لیکن اگر تم ایسی حرکات کرتے ہو جن سے قوم کو نقصان پہنچتا ہے تو تم قوم کے معمار کہلانے کے مستحق نہیں تم اپنی قوم کی سٹڈی کرو اگر تم دیکھتے ہو کہ ہمارے بڑوں میں سے بعض جھوٹ بولتے تھے تو تم جھوٹ نہ بولو اس طرح تم اپنی قوم سے جھوٹ جیسی لعنت کو دور کر سکو گے۔میری ایک رشتہ کی ہمشیرہ احمدی نہیں ہیں۔ویسے وہ احمدیت سے محبت کا اظہار کرتی ہیں۔جب کبھی ان سے کہا جاتا ہے کہ تم احمدیت قبول کیوں نہیں کرتیں تو وہ یہی کہا کرتی ہیں کہ ہم تو پہلے ہی احمدی ہیں کون کہتا ہے کہ ہم غیر احمدی ہیں۔ایک دفعہ اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں تو انہوں نے کہا فلاں مسجد میں ہم نے احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھی تھی ان کا بچہ بھی پاس کھڑا تھا اس نے کہا اماں جانے بھی دو۔احمدی تو فلاں جگہ نماز پڑھتے ہیں۔اب ہمیں یہ مذاق ہاتھ آگیا ہے کہ جب کوئی ایسی بات ہو تو ہم اس لڑکے سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات درست ہے۔اسی طرح مسلمانوں کے ایک بہت بڑے لیڈر تھے جنہیں سر کا خطاب بھی ملا ہوا تھا۔انہیں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گورنمنٹ نے باہر بھجوایا۔ان کے ایک کالج فیلو احمدی تھے۔انہوں نے اس احمدی دوست سے کہا کہ میں فلاں کا نفرنس میں شرکت کے لئے جا رہا ہوں۔مجھے وائسرائے نے اختیار دیا ہے کہ میں جسے چاہوں اپنے ساتھ بطور سیکرٹری لے جاؤں میرا خیال ہے کہ تم میرے ساتھ سفر میں سیکرٹری کے طور پر رہو۔چنانچہ انہوں نے اس احمدی دوست کو اپنا سیکرٹری بنالیا۔چونکہ وہ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے لیڈر تھے اس لئے لوگ ان کا لحاظ کرتے تھے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ایک دفعہ ایک جگہ مختلف جگہوں کے انگریز بیٹھے اپنے تجربات سنارہے تھے تو انہوں نے ان سے کہا آپ بھی اپنا کوئی تجربہ سنائیں۔اس پر انہوں نے بھی اپنا ایک تجربہ سنایا۔ان کے سیکرٹری نے بتایا کہ بد قسمتی سے اس موقع پر میں بھی ساتھ تھا اور میں جانتا تھا کہ واقعہ اس طرح نہیں جس طرح یہ اب بیان کر رہے ہیں۔میں نے سمجھا کہ انہیں غلطی لگی ہے اس لئے جب وہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے کہا جناب ! یہ واقعہ اس