انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 479

انوار العلوم جلد 24 479 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے پس جو علم قانون قدرت کے مطابق ہیں وہ دین کا ایک حصہ ہیں۔ان کے ساتھ خود بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔تمہیں جو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کیا گیا ہے تو اس مقصد کے ماتحت داخل کیا گیا ہے کہ تم دین کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم بھی سیکھو میں جانتا ہوں کہ تم میں سے 40،30 فیصدی غیر احمدی ہیں لیکن تم بھی اس نیت سے یہاں آئے ہو کہ دینی تعلیم حاصل کرو۔بے شک کچھ تم میں سے ایسے بھی ہوں گے جو دوسرے کالجوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔اس کالج کا خرچ تھوڑا ہے اس لئے وہ یہاں آگئے یا ان کا گھر ربوہ سے قریب ہے اس لئے وہ اس کالج میں داخل ہو گئے۔یا ممکن ہے ان کے بعض رشتہ دار احمدی ہوں اور وہ یہاں آباد ہوں اور انہیں ان کی وجہ سے یہاں بعض سہولتیں حاصل ہوں۔لیکن تم میں سے ایک تعداد ایسی بھی ہو گی جو یہ سمجھتی ہو گی کہ اس کالج میں داخل ہو کر ہم اسلام سیکھ سکیں۔تم میں سے جو طالب علم اس نیت سے یہاں نہیں آئے کہ وہ اسلام کی تعلیم سیکھ لیں میں ان سے بھی کہتا ہوں کہ تم اب یہ نیت کر لو کہ تم نے اسلام کی تعلیم سیکھنی ہے اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ تم اسلام کی تعلیم سیکھو تو میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم احمدیت کی تعلیم سیکھو۔ہمارے نزدیک تو اسلام اور احمدیت میں کوئی فرق نہیں۔احمدیت حقیقی اسلام کا نام ہے۔لیکن اگر تمہیں ان دونوں میں کچھ فرق نظر آتا ہے تو تم وہی سیکھو جسے تم اسلام سمجھتے ہو۔اگر انسان کر تا اور ہے اور کہتا اور ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔دیوبندی بریلویوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے بریلوی دیو بندیوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔اور سُنی شیعوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے اور شیعہ سنیوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔اسی طرح آغاخانیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔جماعت اسلامی کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔احمدیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے لیکن جب یہ سب فرقے اپنے آپ کو اسلام کا پیرو کہتے ہیں تو وہ اسلام کے متعلق کچھ نہ کچھ تو ایمان رکھتے ہوں گے۔ورنہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے۔