انوارالعلوم (جلد 24) — Page 435
انوار العلوم جلد 24 435 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار یہ کہنا شروع کر دے کہ امام کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پاجامہ نہ پہنے صرف گرتا پہنے اور گر تا بھی اتنا چھوٹا ہو کہ وہ سجدہ میں جائے تو ننگا ہو جائے تو یہ درست نہیں ہو گا۔بہر حال یورپین اثر کے نتیجہ میں احتراما سر ننگا رکھنے کی بدعت پیدا ہوئی اور انگریزی حکومت کے دوران میں یہ مرض بڑھتی چلی گئی حالانکہ اسلامی لحاظ سے یہ غلط طریق ہے۔یہ بات درست ہے کہ اسلام ایسی کوئی پابندی نہیں لگاتا جو انسانی طاقت سے بڑھ کر ہو لیکن جو بات انسانی طاقت میں ہو اُسے حقیقی عُذر کے بغیر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہو سکتا۔اسلامی طریق کار یہ ہے کہ ادب کے طور پر انسان اپنا سر ڈھانکے۔حضرت خلیفة المسیح الاول درس و تدریس کے دوران میں بعض اوقات سر سے پگڑی اتار دیتے تھے لیکن اگر اس دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لے آتے تو آپ فوراً پگڑی اٹھا کر سر پر رکھ لیتے۔پس ایسے کاموں کے موقع پر اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی نہ ہو تو وہ سر پر رومال ہی باندھ لے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو اس کے لئے کوئی پابندی نہیں۔اگر اس لڑکے کی طرح کسی کے پاس صرف گرتاہی ہو پاجامہ نہ ہو تو اسے بغیر پاجامہ کے نماز پڑھنا جائز ہے۔اسی طرح اگر کسی کے پاس ٹوپی یا پگڑی یا رومال نہ ہو تو وہ ننگے سر کھڑا ہو سکتا ہے ساتھ والے یا تو اسے معذور سمجھیں گے اور یا چندہ کر کے ٹوپی یا پگڑی و غیرہ خرید دیں گے۔جو کام انسانی طاقت سے بالا ہو اسلام اس کا حکم نہیں دیتا۔لیکن جس کام کی انسان میں طاقت ہو یا جس کا ازالہ آسانی سے کیا جا سکتا ہو اس کا بعض دفعہ حکم دے دیتا ہے اور بعض دفعہ کہہ دیتا ہے کہ اس پر عمل کرنا عمل نہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو تمہارا فعل آداب کے خلاف ہو گا۔باقی رہا ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا میرے نزدیک ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونا اس سے زیادہ آسان ہے۔میں اس پر بعد میں بھی غور کروں گا۔اس لئے ابھی میں اس حصہ کو لازمی قرار نہیں دیتا گو جب تک مجوزہ طریق کو تبدیل نہ کیا جائے اس پر عمل کیا جائے گا۔میں بعض فوجیوں سے بھی مشورہ کروں گا کہ سہولت کس صورت میں ہے ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں یا ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونے میں ؟ اگر ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں سہولت ہوئی تو