انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 428

انوار العلوم جلد 24 428 اپنے اندر پجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے اسلام پر قائم تھی اس لئے کوئی شخص اسکی کھیتی کاٹنے کے لئے تیار نہیں تھا۔انہوں نے اسے طعنہ دیا اور کہا کہ مائی! تیری کھیتی تو اب مولوی ہی کاٹیں گے۔احمدیوں کو دیہات میں مولوی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ قرآن اور حدیث کی باتیں کرتے ہیں شروع میں ملکانہ میں بھی ہمارے آدمیوں کو مولوی کہا جاتا تھا۔جس طرح یہاں ہمیں مرزائی کہتے ہیں اسی طرح وہاں مولوی کہا جاتا تھا۔سرحد اور یو۔پی میں عام طور پر قادیانی کہتے ہیں۔جب یہ خط مجھے ملا تو میں نے کہا اب اسلام کی عزت تقاضا کرتی ہے کہ مولوی ہی اس کی کھیتی کاٹیں چنانچہ جتنے گریجوایٹ اور بیرسٹر اور وکیل اور ڈاکٹر وہاں تھے میں نے ان سے کہا کہ وہ سب کے سب جمع ہوں اور اس عورت کی کھیتی اپنے ہاتھ سے جاکر کاٹیں۔چنانچہ در جن یا دو درجن کے قریب آدمی جمع ہوئے جن میں وکلاء بھی تھے ، ڈاکٹر بھی تھے ، گریجوایٹس بھی تھے ، علماء بھی تھے اور انہوں نے کھیتی کا ٹنی شروع کر دی۔لوگ ان کو دیکھنے کے لئے ہو گئے اور تمام علاقہ میں ایک شور مچ گیا کہ یہ ڈاکٹر صاحب ہیں جو کھیتی کاٹ رہے ہیں، یہ حج صاحب ہیں جو کھیتی کاٹ رہے ہیں، یہ وکیل صاحب ہیں جو کھیتی کاٹ رہے ہیں۔انہوں نے چونکہ یہ کام کبھی نہیں کیا تھا اس لئے ان کے ہاتھوں سے خون بہنے لگا مگر وہ اُس وقت تک نہیں ہے جب تک اس کی تمام کھیتی انہوں نے کاٹ نہ لی۔یوپی کے اضلاع میں یہ بات خوب پھیلی اور کئی رئیس متواتر مجھے دلی میں ملے اور انہوں نے کہا کہ ہم تو اُس دن سے احمدیت کی قدر کرتے ہیں جب ہم نے یہ نظارہ دیکھا تھا اور ایک مسلمان عورت کے لئے آپ کی جماعت نے یہ غیرت دکھائی کہ جب لوگوں نے اسے کہا کہ اب مولوی ہی تیری کھیتی آکر کاٹیں گے تو آپ نے کہا کہ اب دکھاوے کا مولوی نہیں سچ سچ کا مولوی جائے گا اور اس کی کھیتی کاٹے گا۔تو ہمیشہ ہی ہم مسلمانوں کی خدمت کرتے رہے ہیں مگر ہمیشہ ہم ان خدمات کو چھپاتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ ان خدمات کے اظہار کا کیا فائدہ۔ہم نے جو کچھ کیا ہے خدا کے لئے کیا ہے انسانوں کے لئے نہیں کیا۔مگر آج کہا جا رہا ہے کہ احمدی مسلمانوں کے دشمن ہیں یہ مسلمانوں کی کبھی خدمت نہیں کرتے۔غرض اتنے بڑے