انوارالعلوم (جلد 24) — Page 426
انوار العلوم جلد 24 426 اپنے اندر یکجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے اقرار دنیا نہیں کرتی تو تم مجبور ہو کہ تم لوگوں کو دکھا کر کام کرو تم نے بہت نیکی کی ہے مگر دنیا نے تمہاری نیکی کا کبھی اقرار نہیں کیا۔پہلے بھی لوگوں کی مصیبت کے وقت ہم کام کرتے رہے ہیں مگر مخالف یہی کہتا چلا گیا کہ احمدی احمدی کا ہی کام کرتا ہے کسی دوسرے کا نہیں کرتا۔یہ بالکل جھوٹ تھا جو مخالف بولتا تھا۔ہم خدمت خلق کا کام کرتے تھے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے خدا کے لئے کیا ہے۔ہمیں اس کے اظہار کی کیا ضرورت ہے۔مگر جب تمہاری اس نیکی کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور تم پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ تم مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں، جب تم پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ تم اپنی قوم کی خدمت کے لئے تیار نہیں تو پھر وہی نیکی بدی بن جائے گی اگر ہم اس کو چھپائیں۔پس اس نیکی کا ہم عَلَی الْإِعْلان اظہار کریں گے اس لئے نہیں کہ ہم بدلہ لیں بلکہ اس لئے کہ وہ کذاب اور مفتری جو ہم پر الزام لگاتے ہیں ان کا منہ بند ہو۔پس مجرم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ہم اپنے کاموں کا اظہار کرتے ورنہ پہلے بھی ہمارے آدمی ہر مصیبت میں مسلمانوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور ہر مشکل میں ہم نے ان کی مدد کی ہے یہ کوئی نیا کام نہیں جو ہم نے شروع کیا ہے۔جب ہم قادیان میں تھے تو اس وقت بھی ہم خدمت خلق کرتے تھے۔1918ء میں جب انفلوئنزا پھیلا ہے تو مجھے خلیفہ ہوئے ابھی چار سال ہی ہوئے تھے اور جماعت بہت تھوڑی تھی مگر اس وقت ہم نے قادیان کے ارد گر دسات سات میل کے حلقہ میں ہر گھر تک اپنے آدمی بھیجے اور دوائیاں پہنچائیں اور تمام علاقہ کے لوگوں نے تسلیم کیا کہ اس موقع پر نہ گورنمنٹ نے ان کی خبر لی ہے اور نہ ان کے ہم قوموں نے ان کی خدمت کی ہے اگر خدمت کی ہے تو صرف جماعت احمدیہ نے۔میں نے اس وقت طبیبوں کو بھی بلوایا اور ڈاکٹروں کو بھی بلوالیا۔دنیا میں عام طور پر ڈاکٹر بلواؤ تو طبیب اٹھ کر چلا جاتا ہے اور طبیب بلاؤ تو ڈاکٹر اٹھ کر چلا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ بات نہیں ہوئی اور پھر اخلاص کی وجہ سے ہمارا ان پر رُعب بھی ہوتا ہے۔غرض میں نے ڈاکٹر بھی بلوائے، حکیم بھی بلوائے اور ہو میو پیتھ بھی بلوائے، اس وقت مرض نئی نئی پیدا ہوئی تھی۔