انوارالعلوم (جلد 24) — Page 11
انوار العلوم جلد 24 11 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کاجوا (یعنی لا نَبِي بَعْدَۀ کہنے کی ضرورت نہیں) کیونکہ ہم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ظاہر ہوں گے۔اگر وہ ظاہر ہوئے تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی نبی تھے اور آپ کے بعد بھی نبی ہوں گے۔یہ روایت بتاتی ہے کہ خاتم النبیین کے جو معنی ہم کرتے ہیں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک بھی اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کے نزدیک بھی درست تھے اور وہ اس بات کے قائل تھے کہ بغیر شرط اور قید کے ہر قسم کی نبوت کے انقطاع کا عقیدہ رکھنا اسلام کی رو سے جائز نہیں۔باقی رہا یہ کہ پھر کس قسم کا نبی آسکتا ہے۔تو پرانے بزرگوں نے یہ کہا ہے کہ ایسا نبی آسکتا ہے جو کوئی نئی شریعت نہ لائے اور کوئی نیا محکم نہ لائے مگر بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ نہ صرف یہ دو شر طیں ضروری ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہو اور تمام فیض اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہو اور اسے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کے لئے اور قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ کے احیاء کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔گویا آپ نے اس دروازہ کو کھولا نہیں بلکہ پہلے بزرگوں کی نسبت اور زیادہ تنگ کر دیا ہے۔اب ایسا آدمی اُمت محمدیہ کو توڑنے والا کس طرح کہلا سکتا ہے۔وہ تو جوڑنے والا ہے۔مکان کی مرمت کرنے والا اُسے توڑتا نہیں جوڑتا ہے۔مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ سے ہمارے اس بیان سے ظاہر ان کی بغاوت کی وجہ سے جنگ کی گئی تھی ہے کہ جس قسم کے نبی کے آنے کو احمدی جائز سمجھتے ہیں اس کے خلاف صحابہ جنگ نہیں کرتے تھے بلکہ ایسے عقیدہ کی تائید کرتے تھے۔پس مولانا مودودی صاحب کا یہ لکھنا کہ صحابہؓ نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا صحابہ کے اقوال کے خلاف ہے۔مولانا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد